Showing posts with label کالمونه، اردو کالمونه. Show all posts
Showing posts with label کالمونه، اردو کالمونه. Show all posts

3/31/2017

آپ شکل سے پشتون لگتے ہیں

کراچی میں بسنے والے پشتون دعویٰ کرتے ہیں کہ اعدادوشمار کے لحاظ سے اس شہر میں دنیا کے کسی بھی شہر سے زیادہ پشتون رہ رہے ہیں جو زیادہ تر محنت مزدوری کی غرض سے خیبرپختونخوا، بلوچستان یا فاٹا کے علاقوں سے ہجرت کرکے کئی دہائیوں سے یہاں آباد ہیں۔غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق یہاں پر 40یا 50 لاکھ سے زیادہ پشتون آباد ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کئی کئی بستیاں انہی پشتونوں نے ہی آباد کی ہوئی ہیں۔
21 مارچ 2017ء کو پنجاب یونیورسٹی میں پیش آنیوالے واقعے کے خلاف "اتن" کی صورت میں پشتون نوجوانوں نے پریس کلب کے سامنے 26 مارچ کو احتجاج کیا جس میں تقریباً تمام ہی سیاسی پارٹیوں کے کارکنان (جو پشتون ہیں) نے شرکت کی۔ عوامی نیشنل پارٹی،پختونخوا ملی عوامی پارٹی، پاکستان پیپلزپارٹی اور پاک سرزمین پارٹی کے کارکنان کے علاوہ تاجراتحاد کے نمائندگان نے بھی اس اتن میں حصہ لیا۔ اس تقریب منتظمین کے مطابق یہ ایک غیرسیاسی تقریب تھی جس کا مقصد پاکستان سمیت دنیا کو صرف یہی پیغام دینا تھا کہ پشتون امن پسند لوگ ہیں، اس ملک میں رہنے والے دوسری اقوام کی طرح وہ بھی اس پاکستان کو دل و جان سے چاہتے ہیں اور اس کی ترقی میں اپنا کردار شروع ہی سے ادا کررہے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ان کے ثقافت پر انگلی اٹھائے تو وہ مارپیٹ کے بغیر اپنے روایتی رقص "اتن" کے ذریعے احتجاج کرتے رہیں گے۔


اتن کو اگر پشتونوں کی قبائلی شناخت، خوشی کے اظہار اور احتجاج کی علامت کے طور پر پشتون سماج کا لازمی حصہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ یہ روایت صدیوں پرانی ہے۔ پشتونوں نے اگر ماضی میں جنگیں بھی لڑی ہیں تو اسی "اتن" کے ذریعے اپنے سپاہیوں میں جوش و ولولہ پیدا کیا ہے۔ اور آج بھی خوشی کے موقع پر کئی علاقوں میں اتن ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ایک صحافی ہونے کے ناطے 26مارچ کو کراچی پریس کلب کے سامنے ہونیوالے انوکھے احتجاج کی کوریج کے لئے پہنچے تو ہماری گاڑی کو سندھ پولیس کے جوانوں نے روکا۔ ہم نے کہا "صحافی ہے کوریج کے لئے جارہے ہیں"۔ ہنس مکھ اور بااخلاق پولیس جوان نے نہایت ہی احترام کے ساتھ جواب دیا "آپ شکل سے پشتون لگ رہے ہیں، برائے مہربانی گاڑی ذرا دور کھڑی کرے اور آگے پیدل جائیے گا"۔ (اس جملے کا مطلب قطعی طور پر تعصب نہیں انگریزی میں کہے تو It is in a lighter mood)۔
اب اس جملے کا کوئی کچھ بھی مطلب نکالے ہم نے تو اس کو لائیٹر موڈ میں ہی لیا اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے گاڑی دور ہی کھڑی کرلی۔ کیمرہ مائیک اٹھایا اور پریس کلب کے سامنے پہنچ گئے۔ وہاں پر پہنچ کر وہی سب کچھ دیکھا جو ہم عموماً ایک احتجاج میں دیکھتے ہیں لیکن دیکھتے ہی دیکھتے منظر بدلتا گیا۔
ایک گاڑی آئی جس میں بڑے بڑے لاؤڈسپیکرز لگے ہوئے تھے۔ اس پروگرام کے منتظم نے ہاتھ میں مائیک اٹھایا ہوا تھا اور سب کو ایک دائرہ بنانے کی درخواست کرلی۔ پھر کیا تھا احتجاج ڈھول کی تاپ اور موسیقی کے سُر و لے میں تبدیل ہوگیا۔ ہر کوئی چاہ رہا تھا کہ وہ اس احتجاجی اتن میں حصہ لے لیکن لوگوں کی تعداد اتنی تھی کہ سب کو اپنی باری کا انتظار کرنا پڑا۔ یہ خوبصورت احتجاج تقریباً دو گھنٹے جاری رہا جس میں اللہ کے فضل و کرم سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ سیکیورٹی کے لئے پولیس کے جوان بھی کھڑے تھے لیکن اس احتجاج کا حسین منظر تب بن گیا جب نظریاتی اختلاف رکھنے والے، سروں پر کئی رنگ کی ٹوپیاں رکھے، گلے میں کئی رنگوں کے گلوبند پہنے ہوئے بوڑھے و جوان اپنی ٹانگوں اور ہاتھوں کی حرکت ڈھول کی تھاپ کے مطابق ڈھالنے کی کوششوں میں لگ گئے۔ سب نے اپنی نظریاتی اختلاف و سیاسی نظریات ایک طرف رکھ دئیے تھے اور موسیقی کے دھنوں میں پورے دو گھنٹے تک مدہوش رہے۔
اس احتجاج میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ سول سوسائٹی کے اراکین بھی شریک تھے جس کو نہ تو اتن کرنے کا سلیقہ معلوم تھا اور شاید نہ ہی وہ تاریخی طور پر اس خوبصورت مظاہرے سے واقف تھے۔ سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ ایک بندہ جس سے میں ملا وہ تھا ڈاکٹرشکیل اوج صاحب کے فرزند۔ اس نے بھی ایک بینر اٹھایا ہوا تھا جس پر لکھا تھا"پشتون ثقافت زندہ باد"۔ میرے نزدیک یہی ایک پرامن ملک کی نشانی ہے کہ اگر ایک کی ثقافت پر حملہ ہو تو وہ ایک پر نہیں سب پر حملہ سمجھ کر اس کے خلاف آواز اٹھانا چاہئیے۔
اسم ملک میں مجھ سمیت احتجاجی مظاہرے سب نے دیکھے ہوں گے لیکن یہ وہ طریقہ تھا جس میں نہ تو سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور نہ ہی کسی ایمبولینس کا راستہ روکا گیا، نہ کسی خاتون یا بوڑھے کے ساتھ بدتمیزی کی گئی نہ ہی پولیس کو اپنی طاقت آزمانے کی ضرورت پیش آئی۔شاید اس ملک کو اس قسم کے ہی احتجاج کی ضرورت ہے کیونکہ پرامن احتجاج سب پاکستانیوں کا آئینی حق ہے۔
بہت سے لوگ شاید یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے اس تحریر کا نام نسلی تعصب کی بنیاد پر رکھا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں بلکہ مجھے اپنے پشتون ہونے پر فخر ہے۔ اسی فخر نے مجھے ایک ایسے بندھن میں جوڑا ہے جس کو سب لوگ (یا شاید کم لوگ) "پشتونولی" کے نام سے جانتے ہیں۔ یہی وہ ضابطہ اخلاق ہے جس کے رنگ میں رنگ ہوکر ہم نے آنکھیں کھولی، بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت، ماں باپ کی ہر بات کا جواب "ہاں" میں دینا اور یہاں تک کہ سر و داڑھی میں سفید بال آنے کے باوجود ماں باپ کے سامنے جھک کر بات کرنے کا سلیقہ سیکھا۔
اگر ہم شکل سے پشتون لگ رہے ہیں تو کراچی والوں نے بھی اس رنگ کو بخوشی قبول کیا ہے۔ صرف پشتون ہی نہیں اس شہر نے ہر اس انسان کو گود لیا ہے جو پاکستانی ہے، جو اس ملک کا شہری ہے، جو اس ملک میں کہیں بھی جانے کا حق رکھتا ہے اور فخر ہے ایسے شہر پر بھی جو کسی ایک کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔

5/10/2015

بجلی ۔ ۔ ۔ دو دن کی

اسلام آباد کے لوگ بڑے خوش قسمت ہیں جن کو اس بات کا ادراک پہلے سے ہی ہوتا ہے کہ کب اندھیرا ہونا ہے اور کب روشنی ۔ دن ہو یا رات ، سردی ہو یا گرمی، دوکان ہو کہ گھر ،سب کو پتہ ہوتا ہے کہ دن کب آتا ہے اور رات کب ۔ مطلب ہر کسی کو اپنے روزمرہ کے کام کاج کے علاوہ زندگی کے دیگر امور کو قالب میں رکھ کر زندگی باآسانی میسر ہے ۔ لیکن پختونخوا کے عوام کے لئے یہ سہولت میسر نہیں کیونکہ وہ یا تو پاکستانی نہیں اور یا ان کو اس قسم کی زندگی گزارنے کا حق نہیں۔
گذشتہ روز گاوں جانے کا اتفاق ہوا اورگرمیوں میں سب کچھ خود دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ شام کو گھر ( سخاکوٹ ضلع ملاکنڈ) پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ بجلی صاحبہ گذشتہ دو روز سے خفا ہے اور ہمارے گھر آنے کا نام نہیں لے رہی۔ میں نے سوچا چلو منانے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کے گھر والوں (واپڈا) کو فون کرنے کی جسارت کی لیکن کئی ناکام کوششوں کے بعد معلوم ہوا کہ صاحبان اکثر ٹیلیفون ریسیور فون کی بجائے میز پر رکھ کر اپنے خوش گپیوں میں خلل نہیں ڈالنا چاہتے اور نہ کسی کو یہ جرات ہوتی ہے کہ ان کی شاہانہ زندگی میں مداخلت کرے ۔ ہمارے علاقہ میں بجلی جہاں سے مہیا کی جاتی ہے ان کو ہم میاں خان تھری کے نام سے جانتے ہیں اور ان کا ٹیلیفون نمبر ہے 0932332046 ۔ لیکن اس نمبر پر عوام کا خیال ہے کہ کبھی بھی ان کا مسئلہ حل نہیں ہوا ہے ۔ اسکے بعد میں نے کوشش کی کہ بجلی کے بل پر دئیے گئے ایک دوسرے نمبر پر کوشش کروں جو پشاور دفتر کا تھا لیکن خوش قسمتی یا بدقسمتی سے وہاں پر بھی رابطہ نہ ہوسکا۔ آخر سوچ لیا کہ فائدہ کوئی نہیں کیوں اپنی بچی کچی توانائی کو فضول میں صرف کروں ۔
اسی سوچ میں یاد آیا کہ پچھلے دنوں قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے وزیرمملکت برائے پانی و بجلی محترم جناب عابدشیرعلی صاحب نے الزام لگایا تھا کہ پختونخوا میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں پر 90 فیصد لوگ بل نہیں دے رہے ۔ دوسرا الزام یہ بھی لگایا کہ وفاقی حکومت نے چکدرہ گرڈ سٹیشن کے لئے 55کروڑ روپے ایک سال پہلے جاری کئے ہیں لیکن صوبائی حکومت نے ابھی تک اس کے لئے زمین فراہم نہیں کی ۔ صوبائی حکومت الزام لگارہی ہے کہ وفاق صوبے کو انکے حقوق نہیں دے رہا، خصوصاً بجلی کی مد میں ان کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے ۔ اب غریب بندہ کرے تو کیا کرے ؟ دور دراز گاوں میں رہنے والا ایک غریب مزدور کسان کا بیٹا پورا دن محنت مزدوری کرکے جب گھر آتا ہے تو وہاں بھی سکون نہیں ملتا۔ گرمی سے برا حال ہو کر بھی کچھ کرنے سے قاصر ہوتا ہے ۔ 
دو روز گزارنے کے بعد اسلام آباد کا رخ کیا تو احساس ہوا کہ گاوں میں رہنا اتنا آسان کام نہیں ۔ گاوں تو دور پشاور جیسے شہر میں بھی بجلی کے جانے اور آنے کے اوقات کی وجہ سے وہاں زندگی بسر کرنے والے کنفیوز ہے کہ کب آئے گی اور کب جائے گی ۔ پورا دن اسی میں گزرجاتا ہے کہ بجلی آئی اور بجلی چلی گئی ۔ لیکن نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ بتانے والا کہ ہمارا قصور کیا ہے ؟ ہم کتنی بجلی پیدا کررہے ہیں ؟ ہماری طلب کیا ہے اور رسد کیا؟ کیا ہمیں اٹھارویں ترمیم کے بعد اپنا حق مل رہا ہے ؟ اگر نہیں مل رہا تو صوبائی حکومت کیوں چپ بیٹھا ہے؟ کیوں اپنا حق وفاق سے نہیں مانگ رہا ؟ اگر انہوں نے چکدرہ گرڈسٹیشن کے لئے 55کروڑ روپے دئیے ہیں تو صوبائی حکومت کیوں انہیں زمین فراہم نہیں کررہی؟ کہیں یہ وہی تبدیلی تو نہیں جس کے لئے پختونخوا کے عوام ہر انتخابات میں چہرے بدلتے رہتے ہیں لیکن پھر اپنے آپ کو کوستے رہتے ہیں ۔
ملاکنڈڈویژن میں پاکستان کا پہلا بجلی گھر(جبن پاور سٹیشن) موجود ہے ۔ اس کے بعد درگئی اور اب ملاکنڈ تھری کے نام سے 81میگاواٹ کی بجلی پیدا کرنیوالا پاورسٹیشن بنایا گیا ہے (جو کہ ابھی تک واپڈا کے ویب سائٹ پر موجود نہیں) ۔ 100میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والے علاقے کے رہنے والے نہ تو دن میں بجلی سے فائدہ اٹھارہے ہیں اور نہ رات کو ۔ ایک دن اپنے ایک کالج کے دوست کا موبائل پیغام آیا کہ بھائی یہ کیا ہورہا ہے ہمارے ساتھ؟ مردان میڈیکل کمپلیکس میں ہوں بجلی صاحبہ صبح چلی گئی اور شام 7 بجے واپس ہمیں اس کی دیدار نصیب ہوئی۔ حالانکہ مردان کے بارے مین ہم سنتے آرہے ہیں کہ گذشتہ دور حکومت میں اس ضلع کو بڑی توجہ ملی تھی اور بہت ترقیاتی کام بھی ہوئے ہیں وہاں پر بھی یہ حال ہے جو میں نے گذشتہ دو روز میں اپنے علاقے (سخاکوٹ ملاکنڈ) میں دیکھا۔ دو دن گزارے لیکن میں نے بجلی کی شکل تک نہیں دیکھی، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ہمارے علاقے کا ٹرانسفارمر خراب پڑا ہے اور کوئی ٹھیک کرنے والا نہیں ۔ لیکن میری شکایت ان لوگوں سے بھی ہے جو ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر خاموش بیٹھے ہوئے ہیں کیونکہ اگر آج کوئی ایم پی اے ، ایم این اے یا سینیٹرہے تو انہی عوام کی وجہ سے ہے ۔ عوام کیوں اپنا حق نہیں مانگ رہی؟ 
خیر دو روز کی بجلی کا قصہ تو ختم ہوا لیکن ابھی تک مجھے پیغامات آرہے ہیں کہ بھئی نہ تو کوئی ہمارے ٹیلیفون سن رہے ہیں اور نہ بجلی کا کوئی خاص شیڈول ہے ۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ لوڈشیڈنگ ختم کرو۔ کیونکہ سب کو پتہ ہے کہ پاکستان کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے لیکن خدارا صاحب اقتدار لوگوں! کوئی شیڈول تو بناو اور اس کو عملی کرو تاکہ لوگو ں کو معلوم ہو کہ کب بجلی صاحبہ جانے والی ہے اور کب آنیوالی ۔ اگر اسلام آباد میں یہ سب کچھ ہوسکتا ہے ، شیڈول بنا کر اس پر عمل ہوسکتا ہے تو ملاکنڈ کے دور دراز گاوں میں کیوں نہیں ؟ کیا وہ پاکستانی نہیں ؟ خیبرپختونخوا کے رہنے والے اسی سوال کے جواب کے منتظر ہیں ۔ 

شائع شدہ ۔ ۔ ۔ اخبارخیبر پانچ مئی 2015

4/05/2015

قومی کرکٹ ٹیم کا نیا کپتان

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک مرتبہ پھر تجربوں کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے ایک روزہ کرکٹ ٹیم کے لئے نئے کپتان اور نائب کپتان کا اعلان کردیا جسکے مطابق اب تک 14ایک روزہ کرکٹ مقابلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑی اظہرعلی کو قومی ٹیم کا نیا سپہ سالار مقررکیا گیا ہے ۔ دوسری جانب لمبے عرصے سے خالی پڑی کرسی پر بھی آخر کار انتخاب ہوہی گیا اور ورلڈ کپ کے مقابلوں میں دھوکہ نہ دینے والے کھلاڑی(سرفراز احمد) کو قومی کرکٹ ٹیم کا نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے ۔ 
پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی اظہرعلی کی عمر اس وقت 30 سال سے اوپر ہے جبکہ28سالہ نائب کپتان سرفراز احمدکا تعلق پاکستان کے بڑے شہر کراچی سے ہے ۔ قومی کرکٹ ٹیم کے نئے کپتان نے پہلا ایک روزہ میچ 30 مئی 2011ء کو آئرلینڈ کے خلاف کھیلا تھا جس میں انہوں نے 39رنز بنائے جبکہ آخری ایک روزہ میچ 3جنوری2013ء کو کلکتہ میں بھارت کے خلاف کھیلا تھا جس میں انہوں نے صرف دو رنز بنا ئے تھے۔ ۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے عمررسیدہ چئیرمین شہریار خان کے اعلان سے پہلے بھی میڈیا میں اظہرعلی کانام گردش کررہا تھا کہ ان کو قومی کرکٹ ٹیم کے ایک روزہ مقابلوں کے لئے کپتان اور سرفراز احمد کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے لیکن گذشتہ روز شہریار خان نے باقاعدہ طور پر ان کے ناموں کا اعلان کردیا ۔ ملکی سیاست کی طرح ہر ادارے کی بدقسمتی یہی رہی ہے کہ فیصلہ سے پہلے ہی فیصلے منظرعام پر آجاتے ہیں اور ایسے نام منتخب کئے جاتے ہیں جن کی عمریں اکثر گذرچکی ہوتی ہے اور اسکی زندہ مثال مصباح الحق اور سعید اجمل ہمارے سامنے ہیں ۔ مصباح الحق کو باقاعدہ طور پر انضمام الحق کے ریٹائرمنٹ کے بعد سامنے لایا گیا اور اس وقت انکی عمر تیس سال سے اوپر تھی۔ اسی طرح جادوئی سپنرسعیداجمل نے بھی اپنا پہلا ایک روزہ میچ تقریباً تیس سال کی عمر میں کھیلا۔
اظہر علی کے کیرئیر پر اگر ایک نظر دوڑائی جائے تو ان کے ایک روزہ مقابلوں کا سفر لمبا نہیں لیکن یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ فیصلہ غلط یا کمزور ہے کیونکہ جنوبی افریقہ کے سابقہ اور سب سے کامیاب کپتان گریم سمتھ کو بھی صرف 27 ایک روزہ مقابلے کھیلنے کے بعد کپتانی کی ذمہ داری دی گئی تھی جو انہوں نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ نبھائی، لیکن پاکستان اور جنوبی افریقہ کے کرکٹ ٹیموں، کھلاڑیوں اور بورڈز کے درمیان فرق کو بھی ہم نظر انداز نہیں کرسکتے کیونکہ اظہرعلی کو ایسے صورتحال میں کپتانی سونپی جارہی ہے جب کہ دو سب سے سینئیر کھلاڑی مصباح الحق اور شاہد آفریدی ایک روزہ مقابلوں کو خیرباد کہہ چکے ہیں ۔ اب چیلنج یہ ہے کہ کس طرح آنیوالے مقابلوں میں اظہرعلی ایک بکھرے، فٹنس مسائل سے دوچارٹیم ر اور جونئیر ہوتے ہوئے ٹیم میں شامل سینئیر کھلاڑیوں جیسے عمر گل،یونس خان اور محمدحفیظ وغیرہ کو ساتھ لے کر کس طرح بنگلہ دیش کے آنے والے دورے میں اپنی کارکردگی دکھاتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے کپتان کو ٹیم میں موجود گروہ بندی کو بھی ذہن نشین کرنی ہوگی کیونکہ اسی گروہ بندی نے پاکستان کو کبھی بھی اچھی کارکردگی دکھانے کا موقع نہیں دیا ۔ 
اس کے علاوہ پاکستانی ٹیم کو سب سے بڑا مسئلہ اوپننگ جوڑی کا ہے جو نہ تو ورلڈ کپ میں کامیاب نظر آئی اور نہ اس سے پہلے۔ سعید انور اور عامر سہیل کے بعد پاکستان کو کوئی خاطرخواہ کارکردگی دکھانے والی اوپننگ جوڑی نہیں ملی جس کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم انتظامیہ سینکڑوں تجربات کرچکا ہے اور ان میں زیادہ تر ناکام ہی رہے ہیں ۔ پاکستان ایک مرتبہ پھر تجربہ کرنے جارہا ہے اور دو نئے کھلاڑیوں کو اہم ذمہ داریاں دی جارہی ہے ۔ دونوں کا پہلا امتحان بنگلہ دیش کے خلاف آنیوالی سیریز ہے ۔ اگر وہ کچھ خاطرخواہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوئے تو شاید آگے بھی وہ کپتان رہے لیکن جس طرح پاکستان کرکٹ بورڈ کی عادت رہی ہے کہ جو اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے انہیں ہٹادیا جاتا ہے ۔ اگرچہ دوسرے ممالک میں اس طرح نہیں ہورہا اور خصوصاً آسٹریلیا کی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو وہ اپنے کھلاڑیوں کو بہت وقت دیتے ہیں اور اگر وہ ایک سیریز میں ناکام بھی ہو تو مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو ٹیم میں مستقل جگہ دے کر اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا بھرپور موقع دیا جاتا ہے جس سے ہمارے کرکٹ بورڈ کو بھی کچھ سیکھنا ہوگا اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں نئے کھلاڑیوں کو وقت دینا ہوگا تاکہ وہ اس بکھرے ہوئے ٹیم کو ایک مرتبہ پھر اکٹھا کرسکے اور پاکستان کو کرکٹ کی دنیا میں کھویا ہوا مقام دلاسکے ۔
اظہرعلی پر تنقید اپنی جگہ لیکن اگر ایک فیصلہ ہوچکا ہے (اچھا یا برا ) اب پورے پاکستان کو اس کی حمایت کرنی ہوگی ۔ خصوصاً میڈیا کو اس سلسلے میں اپنا کردار مثبت کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کے شائقین کو اچھی کرکٹ اور اچھی ٹیم دیکھنے کو مل سکے ۔اور کرکٹ کے شائقین ایک مرتبہ پھر اپنے ٹیم کے لئے نعرے بلند کرسکے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لئے اچھا موقع یہ بھی ہے کہ ملک میں حالات اچھے ہورہے ہیں اور ویران میدانوں کو دوبارہ آباد بھی کیا جاسکتا ہے جس کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوگے ۔ اسی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ نئے کھلاڑیوں،نئے کپتان، نئی سلیکشن کمیٹی اور نئے چیف سلیکٹر کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ایک مرتبہ پھر شائقین کرکٹ کو براہ راست کرکٹ دیکھنے کا موقع فراہم کرسکتے ہیں ۔

آخر میں پوری قوم سے یہی التجا کہ کرکٹ ٹیم پر تنقید کرنی ہے تو کرلے لیکن تنقید اور تنقیص میں فرق کو بھی واضح کرنا ہوگا، صرف تنقیص نہیں تنقید کیا کریں ۔

The Column Published with the Name "Sirf Tanqeed Q" in Daily Akhbar-e-Khyber 03/04/2015

2/01/2015

سکولوں کی سیکیورٹی۔۔ اقدامات و اثرات

آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے بعد سے وفاقی و صوبائی حکومتیں بڑی حساس ہونا شروع ہوگئے ہیں اور کئی ایسی اقدامات اٹھائے گئے ہیں جس سے نہ صرف نفسیاتی طور پر تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء و طالبات متاثر ہوئے ہیں بلکہ سکولوں میں موجود غیرتربیت یافتہ چوکیدار حضرات کے لئے بھی درد سر بنتے جارہے ہیں۔ 16دسمبر 2014ء کے سانحہ کے بعد تعلیمی ادارے 12جنوری 2015ء کو کھل گئے اور کچھ تعلیمی ادارے کھل بھی گئے لیکن سرکاری و غیرسرکاری تعلیمی اداروں کی طرف سے سیکیورٹی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کو ناکافی قرار دیا جارہا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں نے کچھ حد تک تو اپنا کاروبار اور سکول کا نام بچانے کے لئے چوکیداروں کے ساتھ ساتھ سکولوں کے سامنے بلاکس رکھ کر اپنا فرض کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن حالت زار ہے تو سرکاری تعلیمی اداروں کی ، جہاں نہ صرف سیکیورٹی کے نام پر ایک کھیل کھیلا جارہا ہے بلکہ اب تک کئی تعلیمی ادارے صوبائی حکومت (خیبرپختونخوا) کی راہ تھک رہے ہیں کہ کب حکومتی ایوانوں سے ان سکولوں کے لئے فنڈز کا اجراء ہوگا اور پھر ملک کے مستقبل کی سیکیورٹی کا مناسب انتظام کیا جائیگا۔
بات صرف سیکیورٹی کی نہیں ہمارے ذہنوں کی بھی ہے جو کسی نہ کسی طرح منفی سوچ کو ہوا دیکر ہمیں مجبور کررہا ہے کہ حکومتی ایوانوں یا اداروں کے لئے درد سر بن جائے۔ دوسری طرف ہمارے مضافاتی علاقوں میں کئی ایسی افواہیں بھی گردش کررہی ہیں جو بچوں کے ذہنوں کو مفلوج کرنے کی سازش کے طور پر ابھررہی ہیں ۔ اور بچے پوری سیکیورٹی کے ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کررہے، حالانکہ ایسی کوئی قدم اٹھانے کی ضرورت ہی نہیں لیکن چونکہ ہمارے معزز قائدین کی جانب سے یہ حکمنامہ جاری ہوا ہے کہ ہر سکول(سرکاری و غیرسرکاری) اپنی سیکیورٹی کا خود ذمہ دار ہوگا۔ ایسے میں خیبرپختونخوا کے سکولوں میں گیٹ کے اوپر بلاکس رکھ کر ایک چوکی سی بنائی گئی ہے جو سکول کی عمارت کو سیکیورٹی فورسز کی عمارت ظاہر کررہی ہے۔ 
صوبائی حکومت کی جانب سے اقدامات کو اساتذہ کئی زاویوں سے غیرمطمئن قرار دے رہے ہیں ۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ شہروں میں اساتذہ کچھ نہ کچھ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن مضافاتی علاقوں میں اساتذہ میں اتنی قوت برداشت نہیں ہوتی کہ وہ طالبعلم کی ہر بات کو برداشت کرسکے۔ ایسے میں اساتذہ کو پستول یا اسلحہ رکھنے کی اجازت دینا نہ صرف طلباء کے ذہنی صلاحیتوں پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں بلکہ کئی ایک اساتذہ اسی پستول یا اسلحہ کا غیرارادی طور پر غلط استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی طالبعلم بندوقوں کے سایہ میں سکول آئے اور جائے تو اس کی ذہنی ہم آہنگی یقیناً کتاب سے زیادہ بندوق کے ساتھ ہوگی کیونکہ انسانی ذہن زیادہ تر ان چیزوں کی طرف آسانی سے مائل ہوجاتی ہے جس طرف نہیں ہونا چاہئیے۔ اور پھر بچے تو من کے سچے ہونے کے ساتھ ساتھ ٖغیر سیاسی بھی ہوتے ہیں۔

ایسے میں اساتذہ کرام صاحبان کو بھی کنفیوز کیا گیا ہے کیونکہ ایک بندہ ایک وقت میں ایک ڈیوٹی کرسکتا ہے یا تو وہ چوکیدار بن کر طلباء کی حفاظت کرے گا اور یا وہ اپنے بچوں کو کچھ سکھائے گا۔ خیر جو بھی ہو اب اپنی اور بچوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ تعلیمی سلسلہ بھی جاری رکھنا ہے تو یہ تو کرنا ہوگا۔ لیکن بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی، اصل بات یہ ہے کہ جس طرح یہ افواہیں تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہے کہ سکولوں کو سیکیورٹی کے خطرات لاحق ہیں تو بچوں کے ذہنوں پر ایک خوف سا طاری ہوچکا ہے اور صبح جانے سے پہلے ہر بچہ اپنے والدین سے یہی سوال کررہا ہے کہ کیا ہمارے سکول پر بھی دہشتگردوں کا حملہ ہوگا؟ کیا ہمارا سکول بھی آرمی پبلک سکول کی طرح حملہ کا نشانہ بنے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر بچے کے ذہن کو مفلوج کررہا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی وہ تعلیم سے زیادہ اپنی زندگی کی فکر میں مگن رہتا ہے ۔ 
تو پھر حل کیا ہے ؟ حکومتی ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی ہے کہ سکول محفوظ نہیں ، مساجدمحفوظ نہیں، بازار تباہ کئے جارہے ہیں، عوامی اجتماعات کو نشانہ بنایا جارہا ہے، خوف تو ہوگا بچوں میں بھی اور اساتذہ سمیت والدین میں بھی۔
کہتے ہیں کہ اگر برائی کو ختم کرنا ہو تو اسکی ترویج و شہرت کو بند کرو۔ جو چیز جتنا مشہور ہوگا اتنا ہی اسکے اثرات میں اضافہ ہوگا۔ اگر مثبت کو منفی پر غالب کرنا ہے تو مثبت کی ترویج و تبلیغ کرو۔ لوگوں کے ذہنوں میں مثبت مثبت کی مہریں لگاو، کیونکہ انسانی اذہان مثبت کو کم اور منفی کو زیادہ توجہ دینے کے لئے بنے ہوئے ہیں ایسے میں منفی خیالات کو ہوا دینے سے مثبت کا وجود ختم ہوجائیگا اور ہمارے ذہنوں پر صرف منفی سوچ و خیالات حکمرانی کریں گے۔
سب سے پہلے تو اس بات کو اتنی ہوانہیں دی جانی چاہئیے تھی کیونکہ بچے معصوم ہوتے ہیں اگر آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا گیا تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم سکولوں اور سیکیورٹی فورسز کے عمارتوں کے درمیان فرق کو ختم کریں۔ ایسے میں سیکیورٹی اقدامات کو اٹھانا مجبوری ہی سہی لیکن معصوم ذہنوں کی نفسیاتی نشوونما کو ہر حال میں مد نظر رکھنا چاہئے کیونکہ یہی ہمارا مستقبل ہے۔

The Column was published in Daily Akhbar e Khyber on January 29th, 2015

شہید پاکستان کا قوم کے نام خط

میرے پیارے پاکستانیوں! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے اور مجھ جیسے ہزاروں لوگوں کو بھول چکے ہوں گے اسی لئے سوچا کہ کیوں نہ آپ کو ان لوگوں کی یاد دلادوں جنہوں نے پاکستان کی سلامتی اور دہشتگردی کے خلاف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ انکو کچھ ملا یا نہیں لیکن وہ اس دنیا سے سرخرو رخصت ہوئے ۔
میرے پیارے پاکستانیوں!
                                       آپ کو شایدیاد ہوگا آج سے ایک سال اور کچھ دن پہلے ضلع ہنگو کے ابراہیم زئی نامی گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک پندرہ سالہ طالبعلم جس کا نام اعتزاز حسن تھا ،نے ایک خودکش حملہ آور کو روکتے ہوئے اپنی جان قربان کی لیکن سکول کے اندر موجود سینکڑوں بچوں کی جانیں بچائی ۔ ہاں میں وہی ہوں آج کل آپکی نظروں سے اوجھل ہوں کیونکہ اس دنیا کو صرف وہی لوگ نظر آتے ہیں جو بڑے بڑے گھرانوں میں پیدا ہوتے ہیں اور کسی بڑے باپ کے بیٹے ہوں۔


                                   ہاں یاد آیا، کچھ بچوں سے میری جنت میں ملاقات ہوئی وہ بڑے خوش تھے اور آپس میں ایک دوسرے کو دنیا میں ساتھ دیکھے اور سنے واقعات کی داستانیں سنارہے تھے ۔ میں نے ایک خوبصورت اور پھول جیسے لڑکے سے پوچھا کہ آپ کون ہیں یہاں نئے آئے ہیں کیا؟ اس نے کہا ہاں میرا نام مبین آفریدی ہے اور مجھ سمیت یہ تمام لڑکے جو خوشی خوشی ایک دوسرے سے باتیں کررہے ہیں ، میرے ساتھ آرمی پبلک سکول میں شہید ہوئے ہیں۔ پھر اس نے مجھے آرمی پبلک سکول میں پیش آنیوالی داستان سنا دی۔ مجھے خوشی بھی ہوئی اور دکھ بھی، خوشی اس بات کی کہ چلو میرے ہم عمردوستوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا، اب ہم یہاں پر خوب مستیاں کریں گے لیکن دکھ اس بات کا ہوا کہ کاش میں ٓرمی پبلک سکول میں ہوتا تو کم سے کم ایک دہشتگرد کو تو اسی طرح لپٹ کر روک سکتا تھا جس طرح اپنے سکول میں روکا تھا۔ لیکن خیر میں سب والدین کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم سب یہاں پر بہت خوش ہیں اور آپ ہمارے لئے آنسو نہ بہائیں کیونکہ پھر ہمیں یہاں دکھ ہوتا ہے۔
میرے پاکستانی بھائیوں، بہنوں اور بزرگوں! 
                          شاید میں یاد آیا ہوں گا، ان سب کو جنہوں نے اس سکول میں موجود بچوں کو دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہوتے دیکھا، سنا یا محسوس کیا ہو۔ خیر کوئی بات نہیں یہ قربانی تو کسی نہ کسی کو دینی پڑتی ہے۔ میں نے دی،آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں نے دی اور ہاں یاد آیا اساتذہ خصوصاً پرنسپل صاحبہ نے جو قربانی دی میں ان سے ملنے خصوصی طور پر جنت میں انکے گھر گیا اور مبارکباد دی۔ وہ بھی بڑی پر سکون اور مطمئن بیٹھی ہوئی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنا فرض پورا کیا ہے مجھے دلی اطمینان اور سکون ہے۔
اب میں وہ سب کچھ آپ کو بتاتا ہوں جس کے لئے میں یہ خط لکھ رہا ہوں ۔ میں نے اپنی برسی پر دیکھا کہ مجھے سب لوگ بھول گئے کسی نے بھی میرے اعزاز میں کوئی بڑا پروگرام نہیں کیا۔ میرے گھر والوں اور اے وی ٹی چینلز نے بہت کچھ کیا، سارا دن صرف میرے بارے میں ہی باتیں کرتے رہے۔ ایک اردو نیوز چینل نے ایک رپورٹ چلائی ، دوسرے اردو چینل کے ایک پروگرام اینکر نے ہنگو سے میرے لئے اپنا پروگرام کیا۔ لیکن میرا گلہ ان سے نہیں جنہوں نے مجھے یاد نہیں کیا، میرا گلہ ان تمام پاکستانیوں سے ہے جو ابھی بھی مجھے جانتے تک نہیں۔ مجھے مشہور ہونے یا اعزاز دینے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ میں نے وہی کیا جو میرا فرض تھا، میں نے جو کیا صرف اپنے لئے کیا کسی دوسرے کے لئے نہیں کیا۔ میں نے اپنی جان صرف اس لئے قربان کی تاکہ سکول میں موجود سینکڑوں بچوں کو بچاسکوں، لیکن ٓپ لوگ کم ازکم اپنے بچوں کو وہ کچھ سکھائیں جو مجھے میرے والدین نے سکھایا تھا، ہاں اپنے وطن پر قربان ہونا۔
میرے پیارے پاکستانیوں !
                                مجھے آپ سے ایک گلہ ہے لیکن سوچ رہا ہوں کروں یا نہ کروں ۔ خیر چھوڑئے گلوں شکووں سے کچھ نہیں بنتا بس ایک نصیحت ہی کرلیتا ہوں، لیکن میں کیا نصیحت کروں گا کیونکہ میری عمر ہی کیا ہے، پر اس چھوٹے سے منہ کے ساتھ بہت بڑی بات کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ خدارا اپنے ملک اور قوم کو بچائیں ۔ ذرا سوچئیے دنیا کہاں ہے اور ہم کہاں؟؟؟ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہمارا مملکت خداداد پاکستان گذشتہ دہائی سے ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہوچکا ہے جس کے لئے کوئی کچھ نہیں کررہا۔ ابھی سنا ہے کہ کچھ فوجی عدالتیں بن رہی ہیں جو مجرموں کو جلد سے جلد سزائیں دلوائیں گی۔خدا کرے کہ اسی راستے اس ملک سے یہ ناسور ختم ہوجائے لیکن پھر بھی میری گزارش ہر فرد اور خصوصاً نوجوانوں سے ہے کہ خدارا اس ملک کو بچائیں۔ اگر مجھے کوئی بھول گیا ہے تو کوئی بات نہیں، اگر آپ کی قربانی کو کوئی یاد نہیں رکھے تو کوئی شکایت نہ کرو، نہ افسوس کرو بس اپنا فرض سمجھ کر اس ملک کو سنوارنے کی کوشش کریں۔ سب کچھ سیاستدانوں پر نہ چھوڑیں کیونکہ گذشتہ 67 برسوں سے ہم یہی کچھ کرتے آرہے ہیں اس سے کچھ آفاقہ نہیں ہورہا۔ 
پیارے بھائیوں اور بہنوں!
                                              اگر میں ہوتا تو آپ کو ضرور اکٹھا کرنے کی کوشش کرتا لیکن بدقسمتی سے میرے ساتھ زندگی نے وفا نہیں کی اور بہت جلد میرے فرض کی ادائیگی کا وقت آگیا۔ اب آپ کی باری ہے اٹھیں، سوچیں اور وہ کچھ کرکے دکھائیں کہ کل کو ساری دنیا آپ پر فخر کریں۔

آپ کا بھائی

اعتزاز حسن بنگش


The Column was published in Akhbar e Khyber on January 15th 2015

 

Copyright @ 2013 عمرانيات.