Showing posts with label اردو کالمونه. Show all posts
Showing posts with label اردو کالمونه. Show all posts

10/25/2018

آئیڈیل پارٹنر


جب پہلی بار اسے دیکھا تو میری آئیڈیل پارٹنر کی تمام خصوصیات اس میں موجود تھی اور ایک بار پھر ایسا لگا کہ یہی میری آئیڈیل پارٹنر بن سکتی ہے، دوستی کا ہاتھ بڑھایا، منظور ہوا اور پھر رفتہ رفتہ اتنے قریب آگئے کہ اس کے بغیر ایک لمحہ گزارنا مشکل ہوگیا۔
میں نے ہمیشہ سے آئیڈیلزم کا پیچھا کیا، زندگی کے کٹھن مراحل طے کرتے ہوئے ہمیشہ ایک ہی سوچ ہر وقت ساتھ رہتی تھی کہ کب ایک آئیڈیل زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔ میرا بچپن دیہات میں گزرا جو مجھے بالکل بھی پسند نہیں آیا۔ گریجویشن کے بعد پیسہ کمانے کا خیال آیا تو متحدہ عرب امارات میں زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ وہاں کی رنگین زندگی بھی متاثر کرنے میں ناکام رہی۔ عشق ہوگیا لیکن کامیابی نہیں ملی۔ ہمیشہ مایوسی نے پیچھا کیا اور شاید یہی وجہ تھی کہ کبھی پیسے کمانے کا خیال نہیں آیا۔ زندگی جس طرح بھی بسر ہورہی تھی میں خوش تھا۔ آج گزر گیا کل کی کبھی پرواہ نہیں کی لیکن کوشش جاری تھی۔ دیہات سے ایک بار پھر شہر آیا اور شہر کی رنگین مزاج لوگوں سے واسطہ پڑا جو کبھی بھی مجھے متاثر نہ کرسکیں۔ ہاں اتنا ہوا کہ میں ان کے ساتھ انہی کی طرح جینے لگا اور ایک بار پھر میں آئیڈیلزم کی طرف مائل ہونے لگا۔
            اس کے ساتھ رہتے ہوئے میں ہمیشہ پرسکون رہتا تھا، جیب میں پیسے نہیں تھے، نوکری جاچکی تھی کچھ بچت تھی جس پر گزارا ہورہا تھا لیکن میری زندگی شاہانہ تھی، کبھی بھی کسی چیز کی ضرورت محسوس نہیں کی شاید میری سب ضروریات اس کے ساتھ ہونے کے بعد ختم ہوگئی تھیں۔
            اس سال میری سالگرہ پر انہوں نے مجھے سرپرائز دیا، ایک ایسا سرپرائز جس کے بارے میں کبھی زندگی میں نہیں سوچا تھا۔ پہلے رلایا اور پھر ایک ایسی سرپرائز پارٹی رکھی کہ میں خوشی سے رونے لگا تھا لیکن اس نے مجھے رونے نہیں دیا۔ اس نے مجھے سینے سے لگایا اور پیار سے ماتھے پر چھومتے ہوئے کہا کہ میں یہی چاہتی تھی کہ کچھ حسین پل ساتھ گزار کر اس دن کو ہمیشہ کے لئے یاد رکھو۔ مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی، کبھی بھی، شاید ساری زندگی میں میری سالگرہ پر ایسی خوشی دوبارہ نہیں ملے گی۔ میں نے جب جب اس کو دیکھا اس میں اپنے آپ کو پایا۔ میں نے جب جب اس کو سنا، اس میں اپنی کہانی سنی، میں نے جب جب اس کو محسوس کیا اس میں اپنے دل میں چھپے درد محسوس کئے۔ میں نے جب بھی اس کے ساتھ بات کی ان میں خلوص، محبت اور ساتھ نبھانے کے جذبات تھے۔ میں نے جب بھی اس سے ہاتھ ملایا دل کو ٹھنڈک ملی۔
            وہ اب نہیں لیکن میں نے ایک لمحے کے لئے بھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا، شاید یہ میری غلطی یا خوش فہمی ہو کہ وہ واپس ضرور آئیگی۔ اس نے ایک دن کہا بھی تھا کہ دنیا میں ہر کوئی خودغرض ہے، کوئی پیار بھی کرے تو خودغرضی یعنی اپنے سکون کے لئے، کوئی ساتھ بھی ہو تو اس میں مفادات کی جنگ آجاتی ہے۔ اس دن وہ عجیب عجیب باتیں کررہی تھیں، میں نے اسے کہا کہ مجھے ڈرارہی ہو، کیا تم بھی ایک دن مجھے چھوڑ کر ایسے چلی جاؤگی؟ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہاں لیکن ایک بات ضرور کہی کہ اس دنیا میں ہر انسان اپنے بارے میں سوچتا ہے، ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ سب سے بہتر ہو، ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کا مقام سب سے اوپر ہو اور ایسے میں اگر کسی پیار کرنے والے کو اس سے بھی اچھا کوئی ملے تو اسے کوئی ملال نہیں ہوگا کہ کوئی اسے چھوڑ دیں۔ میں ڈرگیا اور اس کو چپ ہونے کو کہا لیکن وہ ہنس پڑی اور کہا، "بڈی یہ دنیا ایسی ہی ہے، یہاں کوئی بھی کسی کا ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتا، جب بھی کوئی بہتر مل جاتا ہے تو پہلے والے کو چھوڑنا پڑتا ہے"۔ میں نے اس دن یقین نہیں کیا کیونکہ وہ میری آئیڈیل پارٹنر تھی، ہم شب و روز ساتھ رہتے تھے، گھنٹوں گھنٹوں باتیں ہوتی تھی، وہ مجھے دل کا حال سناتی تھی، میں اسے دل کی باتیں بتانے میں سکون محسوس کرتا تھا۔ میں اس کی نزاکت پر فدا تھا۔
            وہ کیوں میری آئیڈیل پارٹنر تھی۔۔۔۔؟ میں نے ہمیشہ اپنے آئیڈیل پارٹنر کی خصوصیات دل میں چھپا رکھے تھے اور کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیں۔ شاید اب شیئر کروں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ میں نے ہمیشہ سوچا تھا کہ میری پارٹنر دیہی نہیں ایک ماڈرن لڑکی ہوگی، وہ شلوار قمیص سے زیادہ ماڈرن ڈریس پہنتی ہوگی، وہ لڑکوں اور لڑکیوں میں فرق محسوس نہیں کرے گی، وہ میرے سامنے اپنے دوستوں سے گلے ملے گی، وہ میرے دوستوں کے سامنے میرے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلے گی، وہ میرے دوستوں کے درمیان بیٹھ کر اسی طرح محسوس کرے گی جس طرح وہ میرے ساتھ کرتی ہے، اگر وہ کوئی نشہ بھی کرتی ہے تو مجھ سے چھپ کرنہیں بلکہ میرے سامنے میرے ساتھ کرے گی۔ میں خود اس کے لئے سگریٹ لے کر دوں گا اگر وہ پینا چاہے تو۔ وہ گھر میں عام کپڑے نہیں بلکہ لڑکوں والے ٹراؤزر یا شارٹ پہن کر میرے ساتھ بیٹھے گی۔ میں اس کے لئے چائے یا کھانا بناؤں گا وہ میرے سامنے کچن میں بیٹھ کر صرف مجھے دیکھے گی اور باتیں کرے گی۔ وہ اگر کسی پارٹی میں جانا چاہتی ہے اور میں نہیں جانا چاہتا تو میں خود اسے ڈراپ کروں گا، واپسی پر اگر رات کے تین بجے بھی وہ آنا چاہے تو مجھے کال کرے گی اور میں اسے گاڑی میں واپس لے کر آؤں گا۔ مجھے اپنے آپ سے زیادہ اس پر اعتماد ہوگا اور اسے مجھ پر خود سے زیادہ اعتماد۔ ہمارے درمیان کوئی بھی چیز ڈھکی چھپی نہیں ہوگی۔ کوئی اگر اسے بری نظر سے بھی دیکھے تو وہ اس پر خاموش نہیں رہے گی، اس کا جواب دے یا مجھے بتائیں گی کہ فلانے نے اسے یہ بات کہی، یہ میسیج کیا، اس کا جواب کیسا ہونا چاہئیے۔ یہ اور ایسی کئی خصوصیات جو میں ایک آئیڈیل پارٹنر میں ڈھونڈرہا تھا وہ اس میں موجود تھی اسی لئے وہ میری آئیڈیل پارٹنر ہے اور رہے گی۔
            اگرچہ اب وہ میرے پاس نہیں لیکن اس کی یادیں، اس کی باتیں، اس کی ادائیں اب بھی میرے ساتھ صبح شام رہتی ہے۔ اس کی ایک خاص خوشبو ہے جو میں نے اسے بھی نہیں بتایا، اب بھی وہ خوشبو میرے ساتھ رہتی ہے۔ اور نہیں تو اس کے کپڑوں سے آنے والی خوشبو ہر رات میرے ساتھ سوجاتی ہے۔ اس کا دیا ہوا وہ شرٹ اب میں استعمال نہیں کرتا کیونکہ اگر میں اسے استعمال کروں گا تو وہ پرانا ہوجائیگا۔ میں جب بھی صبح کپڑے بدلتا ہوں تو اس شرٹ کو چھوم کر دن کا آغاز ہوجاتا ہے۔ رات کو سوتا ہوں تو اس کا وہ کالا دوپٹہ جو اب بھی میرے ساتھ ہے، سر پر ڈال کر سوجاتا ہوں کیونکہ وہ میری آئیڈیل پارٹنر تھی، ہے اور رہے گی۔ شاید اس کے لئے میں ایک آئیڈیل پارٹنر نہیں تھا اسی لئے وہ زیادہ عرصہ میرے ساتھ نہیں رہی لیکن میری زندگی میں اب اس کے علاوہ کوئی نہیں اور نہ کسی کو آنے کی اجازت ہے کیونکہ آئیڈیل ایک ہی ہے اور رہے گی۔وہ بھی شاید آئیڈیلزم کی تلاش میں نکلی ہے اور مجھے خوشی ہوگی اگر اسے اس کا آئیڈیل پارٹنر مل جائے کیونکہ مجھے اپنے سے زیادہ اس کی خوشی عزیز ہے۔ وہ اگر اپنے آئیڈیل پارٹنر کی تلاش میں کامیاب ہو تو میں اس کی یادوں کے سہارے ہی جی لوں گا۔

3/31/2017

آپ شکل سے پشتون لگتے ہیں

کراچی میں بسنے والے پشتون دعویٰ کرتے ہیں کہ اعدادوشمار کے لحاظ سے اس شہر میں دنیا کے کسی بھی شہر سے زیادہ پشتون رہ رہے ہیں جو زیادہ تر محنت مزدوری کی غرض سے خیبرپختونخوا، بلوچستان یا فاٹا کے علاقوں سے ہجرت کرکے کئی دہائیوں سے یہاں آباد ہیں۔غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق یہاں پر 40یا 50 لاکھ سے زیادہ پشتون آباد ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کئی کئی بستیاں انہی پشتونوں نے ہی آباد کی ہوئی ہیں۔
21 مارچ 2017ء کو پنجاب یونیورسٹی میں پیش آنیوالے واقعے کے خلاف "اتن" کی صورت میں پشتون نوجوانوں نے پریس کلب کے سامنے 26 مارچ کو احتجاج کیا جس میں تقریباً تمام ہی سیاسی پارٹیوں کے کارکنان (جو پشتون ہیں) نے شرکت کی۔ عوامی نیشنل پارٹی،پختونخوا ملی عوامی پارٹی، پاکستان پیپلزپارٹی اور پاک سرزمین پارٹی کے کارکنان کے علاوہ تاجراتحاد کے نمائندگان نے بھی اس اتن میں حصہ لیا۔ اس تقریب منتظمین کے مطابق یہ ایک غیرسیاسی تقریب تھی جس کا مقصد پاکستان سمیت دنیا کو صرف یہی پیغام دینا تھا کہ پشتون امن پسند لوگ ہیں، اس ملک میں رہنے والے دوسری اقوام کی طرح وہ بھی اس پاکستان کو دل و جان سے چاہتے ہیں اور اس کی ترقی میں اپنا کردار شروع ہی سے ادا کررہے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ان کے ثقافت پر انگلی اٹھائے تو وہ مارپیٹ کے بغیر اپنے روایتی رقص "اتن" کے ذریعے احتجاج کرتے رہیں گے۔


اتن کو اگر پشتونوں کی قبائلی شناخت، خوشی کے اظہار اور احتجاج کی علامت کے طور پر پشتون سماج کا لازمی حصہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ یہ روایت صدیوں پرانی ہے۔ پشتونوں نے اگر ماضی میں جنگیں بھی لڑی ہیں تو اسی "اتن" کے ذریعے اپنے سپاہیوں میں جوش و ولولہ پیدا کیا ہے۔ اور آج بھی خوشی کے موقع پر کئی علاقوں میں اتن ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ایک صحافی ہونے کے ناطے 26مارچ کو کراچی پریس کلب کے سامنے ہونیوالے انوکھے احتجاج کی کوریج کے لئے پہنچے تو ہماری گاڑی کو سندھ پولیس کے جوانوں نے روکا۔ ہم نے کہا "صحافی ہے کوریج کے لئے جارہے ہیں"۔ ہنس مکھ اور بااخلاق پولیس جوان نے نہایت ہی احترام کے ساتھ جواب دیا "آپ شکل سے پشتون لگ رہے ہیں، برائے مہربانی گاڑی ذرا دور کھڑی کرے اور آگے پیدل جائیے گا"۔ (اس جملے کا مطلب قطعی طور پر تعصب نہیں انگریزی میں کہے تو It is in a lighter mood)۔
اب اس جملے کا کوئی کچھ بھی مطلب نکالے ہم نے تو اس کو لائیٹر موڈ میں ہی لیا اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے گاڑی دور ہی کھڑی کرلی۔ کیمرہ مائیک اٹھایا اور پریس کلب کے سامنے پہنچ گئے۔ وہاں پر پہنچ کر وہی سب کچھ دیکھا جو ہم عموماً ایک احتجاج میں دیکھتے ہیں لیکن دیکھتے ہی دیکھتے منظر بدلتا گیا۔
ایک گاڑی آئی جس میں بڑے بڑے لاؤڈسپیکرز لگے ہوئے تھے۔ اس پروگرام کے منتظم نے ہاتھ میں مائیک اٹھایا ہوا تھا اور سب کو ایک دائرہ بنانے کی درخواست کرلی۔ پھر کیا تھا احتجاج ڈھول کی تاپ اور موسیقی کے سُر و لے میں تبدیل ہوگیا۔ ہر کوئی چاہ رہا تھا کہ وہ اس احتجاجی اتن میں حصہ لے لیکن لوگوں کی تعداد اتنی تھی کہ سب کو اپنی باری کا انتظار کرنا پڑا۔ یہ خوبصورت احتجاج تقریباً دو گھنٹے جاری رہا جس میں اللہ کے فضل و کرم سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ سیکیورٹی کے لئے پولیس کے جوان بھی کھڑے تھے لیکن اس احتجاج کا حسین منظر تب بن گیا جب نظریاتی اختلاف رکھنے والے، سروں پر کئی رنگ کی ٹوپیاں رکھے، گلے میں کئی رنگوں کے گلوبند پہنے ہوئے بوڑھے و جوان اپنی ٹانگوں اور ہاتھوں کی حرکت ڈھول کی تھاپ کے مطابق ڈھالنے کی کوششوں میں لگ گئے۔ سب نے اپنی نظریاتی اختلاف و سیاسی نظریات ایک طرف رکھ دئیے تھے اور موسیقی کے دھنوں میں پورے دو گھنٹے تک مدہوش رہے۔
اس احتجاج میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ سول سوسائٹی کے اراکین بھی شریک تھے جس کو نہ تو اتن کرنے کا سلیقہ معلوم تھا اور شاید نہ ہی وہ تاریخی طور پر اس خوبصورت مظاہرے سے واقف تھے۔ سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ ایک بندہ جس سے میں ملا وہ تھا ڈاکٹرشکیل اوج صاحب کے فرزند۔ اس نے بھی ایک بینر اٹھایا ہوا تھا جس پر لکھا تھا"پشتون ثقافت زندہ باد"۔ میرے نزدیک یہی ایک پرامن ملک کی نشانی ہے کہ اگر ایک کی ثقافت پر حملہ ہو تو وہ ایک پر نہیں سب پر حملہ سمجھ کر اس کے خلاف آواز اٹھانا چاہئیے۔
اسم ملک میں مجھ سمیت احتجاجی مظاہرے سب نے دیکھے ہوں گے لیکن یہ وہ طریقہ تھا جس میں نہ تو سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور نہ ہی کسی ایمبولینس کا راستہ روکا گیا، نہ کسی خاتون یا بوڑھے کے ساتھ بدتمیزی کی گئی نہ ہی پولیس کو اپنی طاقت آزمانے کی ضرورت پیش آئی۔شاید اس ملک کو اس قسم کے ہی احتجاج کی ضرورت ہے کیونکہ پرامن احتجاج سب پاکستانیوں کا آئینی حق ہے۔
بہت سے لوگ شاید یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے اس تحریر کا نام نسلی تعصب کی بنیاد پر رکھا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں بلکہ مجھے اپنے پشتون ہونے پر فخر ہے۔ اسی فخر نے مجھے ایک ایسے بندھن میں جوڑا ہے جس کو سب لوگ (یا شاید کم لوگ) "پشتونولی" کے نام سے جانتے ہیں۔ یہی وہ ضابطہ اخلاق ہے جس کے رنگ میں رنگ ہوکر ہم نے آنکھیں کھولی، بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت، ماں باپ کی ہر بات کا جواب "ہاں" میں دینا اور یہاں تک کہ سر و داڑھی میں سفید بال آنے کے باوجود ماں باپ کے سامنے جھک کر بات کرنے کا سلیقہ سیکھا۔
اگر ہم شکل سے پشتون لگ رہے ہیں تو کراچی والوں نے بھی اس رنگ کو بخوشی قبول کیا ہے۔ صرف پشتون ہی نہیں اس شہر نے ہر اس انسان کو گود لیا ہے جو پاکستانی ہے، جو اس ملک کا شہری ہے، جو اس ملک میں کہیں بھی جانے کا حق رکھتا ہے اور فخر ہے ایسے شہر پر بھی جو کسی ایک کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔

5/14/2016

دال میں کچھ کالا ہے

پاکستانی سیاست کی یہ روش رہی ہے کہ اقتدار و اختلاف کے مزے لوٹنے والے اپنے دور کے پہلے تین سال کچھ نہیں کرتے نظرآتے ہیں لیکن جب تین سال گزرجائے تو سب بیدار ہوجاتے ہیں ۔ صاحب اقتدار ملک کے دور دراز علاقوں کے دوروں پر نکل جاتے ہیں جبکہ حزب اختلاف یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ کیسے اپنے آپ کو دودھ کا دھلا ثابت کریں ۔ پچھلے ادوار میں تو یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ انتخابات سے کچھ مہینے پہلے کچھ لوگ اس جواز کے ساتھ استعفے دیتے ہیں کہ ان کی بات نہیں مانی جارہی نہ ہی وہ اپنے عوام کی اس شکل میں نمائندگی کے قابل ہیں جس کے لئے انہیں ایوانوں میں بھیجا گیا تھا ۔ ہمارے عوام بھی اس معاملے میں جلدی دھوکہ کھاجاتے ہیں اور اپنے "معصوم" لیڈر (سیاستدان) کی باتوں میں آجاتے ہیں۔ انکی قربانی کو سلام پیش کرنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں لوگ نکل آتے ہیں اور ان کا عوام میں نام نہاد واپسی پر پرتپاک استقبال کیا جاتا ہے، پھول نچھاور کئے جاتے ہیں اور اسطرح ایک مرتبہ پھر وہ صاحب آئندہ پانچ سال کے لئے ایوانوں میں بھیج دیا جاتا ہے ۔
یہی روش گذشتہ 70 برسوں سے دیکھنے میں آرہا ہے جو ابھی تک جاری ہے ۔ اس کا صاف صاف مطلب یہ نکلتا ہے کہ عوام ابھی تک سیاسی شعور سے کوسوں دور ہیں ۔ لیکن جب ملک کا بادشاہ دو سال پہلے عوام میں جانے کی لگن شروع کردیتے ہیں تو ایسے میں دو ہی نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں:
1)     ان کو  اپنی اقتدار جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے
2)     یا ان کو اگلے پانچ سال بھی عوام کو دھوکے میں رکھنا ہے
یہی کچھ ایک مرتبہ پھر پاکستان میں نظر آرہا ہے ۔ ایک طرف پاناما لیکس میں 199 افراد کو چھوڑ حزب اختلاف وزیراعظم کے پیچھے لگے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پاس آئندہ انتخابات سے کچھ دو سال پہلے حزب اقتدار او خصوصاً وزیراعظم نوازشریف کو بدنام کرنے کا ایک اسان بہانہ میسر آیا ہے تو دوسری طرف مسلم لیگ ن والے ملک کے طول و عرض کے دوروں میں مصروف ہیں ۔ کبھی پشاور، کبھی مانسہرہ، کبھی بنوں تو کبھی سکھر ۔ صرف دورے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے اعلانات بھی کئے جارہے ہیں ۔ پاکستان کے عوام کا حافظہ اگر کمزور نہ ہو تو انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ اسی وزیراعظم نوازشریف نے اس وقت کے آمر جنرل (ر) پرویزمشرف کے ساتھ سازباز کرتے ہوئے سعودی عرب کے لئے پرواز کا انتخاب خود کیا تھا۔ اسی طرح کرپشن اور ٹیکس چوری کا الزام لگانے والوں کو بھی یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ مسٹر ٹین پرسنٹ کا تعلق (آج کل کے) خزب اختلاف سے ہی تھا یا ہے ۔
ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیجئیے خیبرپختونخوا کے حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ سب سے پہلے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کا احتساب ہونا چاہئیے، پیپلزپارٹی نے بھی حامی بھر لی ۔ لیکن کوئی ہے جو ان سے پوچھ لے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دو مایہ ناز کھلاڑیوں نے خود اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان کے باہر آف شور کمپنیاں ہیں ۔ ایک صاحب نے تو کہا کہ وہ کمپنیاں میری نہیں بلکہ میرے بچوں کے ناموں پر ہیں، اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ۔ یہی بات نوازشریف نے کہی تھی تو تحریک انصاف والوں نے یہ کہہ کر مسترد کردی کہ وزیراعظم صاحب آپکے بیٹے آپ سے الگ تو نہیں ۔ عمران خان صاحب کے احتساب کے معیار کا کیا کہنا ہے ابھی خیبرلیکس (خیبربینک) لوگ شاید بھولے نہیں کہ ایم ڈی نے صوبائی وزیرخزانہ جناب مظفرسید صاحب کے خلاف اخبار میں اشتہار تک چھاپ دیا اور اخر کار جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قصہ ہوگیا ۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق صاحب نے کرپشن فری پاکستان کا نعرہ گذشتہ دنوں بلند کیا اور اسی عنوان پر ایک مشاعرے کا اہتمام بھی کیا گیا، واہ واہ ہوئے، ارشاد ارشاد اور مکرر مکرر بھی سنے گئے لیکن گفتم نشستم برخاستم والی کہانی ۔ کوئی پوچھے امیر جماعت سے کہ انہوں نے اپنے وزیر مظفرسید کے کرپشن کے خلاف کیا کارروائی کی؟ میرے ایک دوست نے تو مجھے یہاں تک کہہ دیا کہ بھئی خیبربینک میں کوئی بھی کام ہو تو جماعت اسلامی والوں سے کرواؤ کیونکہ اگر جماعت کا کوئی مقامی رہنما بھی خیبربینک کے کسی شاخ میں جاتا ہے تو منیجر تک کے لوگ اس کو سلام کرنے حاضر ہوجاتے ہیں کیونکہ زیادہ تر ان میں جماعتی ہی بیٹھے ہیں ۔
اب ہر کوئی اپنا منجن بیچ رہا ہے، خوار و زار ہورہا ہے تو بیچارہ عام آدمی ۔ کل کو پھر الیکشن ہوں گے (اور شاید جلدی بھی ہو، کیونکہ کچھ اداروں کو شاید بہت جلدی ہے) اور یہی عام آدمی اپنے رہنما انہی لوگوں کو چنیں گے پھر وہی پانچ سالوں والی کہانی، پھر وہی آہ و بکا، پرانے چہرے نیا منجن، نئی دوکان، پرانے چہرے سب اپنے اپنے دال بیچتے رہیں گے بس دال شاید اس وقت تک پوری کی پوری کالی ہوچکی ہوگی اور غریب عوام غربت کی چکی میں پستا ہوا اس جہان فانی سے رخصت ہوکر آرام کی نیند سورہا ہوگا۔

2/16/2016

اليوم الويلنتائن فی الباکستان


اس دنیا میں ہمارا ایک ہی دوست ہے جس کو ہم سنتے بھی ہے اور مانتے بھی، موصوف کا نام بھی بڑا عجیب ہے، عربی سے لگاؤ نہیں لیکن ماں باپ نے نام عربی میں کیا رکھا کہ موصوف کو عربی سے پیار ہی ہوگیا۔ خیر نام میں کیا رکھا ہے اسے چھوڑنا ہی بہتر ہے لیکن کل اس نے ایک ایسا سوال کیا جس پر میں ہنس سکا نہ رو سکا۔ موصوف نے پہلی بار کسی سے ویلنٹائن ڈے کے بارے میں سنا تو مجھے فون کرکے پوچھا کہ یار یہ ''الیوم الویلنتائن'' کیا بلا ہے؟ دور دراز گاؤں کے رہنے والے ایک سادہ اور بولے نوجوان نے جب یہ سوال کیا تو میں حیران کم اور پریشان زیادہ ہوا۔ میں نے پوچھا خیر تو ہے آج کس موڈ میں یہ سوال کررہے ہو؟ اس نے کہا یار مجھے کسی نے کہا ہے کہ چودہ فروری "الیوم الویلنتائن" ہے تو یہ کیا چیز ہے؟ میں نے جان چھڑاتے ہوئے کہا کہ یار چھوڑو یہ باتیں، مغربی تہوار ہے پاکستان میں اس کو برا سمجھا جاتا ہے لیکن وہ صاحب نہ مانے اور کہا کہ اس کا مطلب سمجھاؤ۔ خیر میں نے پھر ٹال مٹول سے کام لیا تو صاحب تیش میں آگئے اور فون بند کردیا۔ میں نے فون ملایا تو صاحب اسی طرح ٖغصے میں تھے اور بات کرنے سے پہلے ایک دو گالیاں بھی میرے منہ پہ ماردئیے ۔ میں نے بادل ناخواستہ یہ سب کچھ سہہ لیا اور اسے ویلنٹائن ڈے کے بارے میں بتانا شروع کردیا ۔ میں نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ بھی یہ ''محبت کا دن'' کہلاتا ہے اور اسی دن لوگ ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا اظہار پھولوں یا تحفے تحائف سے کرتے ہیں ۔ صاحب نے پھر پوچھا کہ یہ ایک دن ہی کیوں؟ میں نے کہا بھئ جس طرح ہر تہوار کے لئے خاص دن مقرر ہے تو اس طرح محبت کے لئے بھی یہ دن خاص کیا گیا ہے، جس نے بھی کیا ہے مقصد صاف ظاہر ہے کہ چاہے کوئی بھی ہو محبت کا اظہار کرلو۔ خیر اس سے جان کسی طریقے سے چھڑایا تو ٹی وی لگایا جس پر بریکنگ نیوز کے ساتھ ویلنٹائن ڈے نہ منانے کے بارے میں ہمارے مملکت خداداد کے اقوال چل رہے تھے اور "اسلامی جمہوریہ پاکستان" کے بااختیار صدرمملکت نے حکم دیا تھا کہ ویلنٹائن ڈے چونکہ مغربی تہوار ہے اس لئے مسلمان اس کو منانے سے گریز کریں۔

دوسری طرف خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے بادشاہ(ضلعی ناظم) کی طرف سے بھی شاہی فرمان جاری ہوچکا تھا کہ ان لوگوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے جو ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں۔ جناب وزیرداخلہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وفاقی دارالحکومت میں کوئی بھی محبت کا دن نہ منائے اور ہمارے مذہبی سیاسی پیشوا تو بار بار کہہ چکے ہیں کہ "من تشبه بقومٍ فهو منه" یعنی جس کسی نے کسی قوم کے طرززندگی کو اپنایا وہ اسی قوم میں سے ہے۔ ایسے میں جناب مفتی نعیم (مہتمم جامعہ بنوریہ کراچی) اور ماروی سرمد (صحافی) کا مکالمہ یاد آیا کہ محترمہ ماروی سرمد نے جناب مفتی نعیم صاحب کو ویلنٹائن مبارک اور سرخ غبارے بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ ایسے میں اگر ہمارے گاؤں والا دوست (جس کو عربی سے صرف اسلئے لگاؤ ہے کہ اس کا نام عربی میں ہے) اگر سوالات اٹھائے تو ان کا حق بنتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟کیا ویلنٹائن منانے کی ضرورت ہے؟ منانے سے پہلے یہ سوچنا چاہئیے کہ ہمارے بڑے بڑے صحافی حضرات اس موضوع پر ایک ایک گھنٹے تک مہمانوں کو بٹھا کر ان کو آپس میں لڑاتے کیوں ہیں؟ کیا پاکستان میں تمام مسائل ختم ہوگئے ہیں اور صرف یہی مسئلہ رہ گیا ہے کہ پاکستانیوں کو ویلنٹائن ڈے منانا چاہئیے یا نہیں؟ بھئی ذرا سوچ لیں کتنے فیصد پاکستانی بچے سکول جاتے ہیں؟ کتنے فیصد نوجوانوں کو روزگار مل رہا ہے؟ اب تک کتنے پاکستانی (مرد وخواتین) دہشتگردی کا شکار ہوکر زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں؟ یہ کبھی ہم نے سوچا بھی ہے یا نہیں؟ کیا پاکستانی خواتین و حضرات صرف یہی سوچ رہے ہیں کہ ہاں 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منانا چاہئیے اور دوسرا ٹولہ کہتا نہیں یہ کفری رسوم ہیں اسے ترک کردینا چاہئیے۔

اب آتے ہیں تھوڑا اس طرف جہاں کوئی نظرڈالنے کی ہمت نہیں کرتا۔ پاکستان میں (شاید ایک سازش کے تحت) تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ قبائلی علاقہ جات اور خیبرپختونخوا میں سکولوں کو بموں سے اڑایا گیا، 16 دسمبر 2014ء کو ہم ابھی بھولے نہیں ہے، 20 جنوری 2016ء بھی سب کو یاد ہوگا جب چارسدہ میں باچاخان یونیورسٹی پر دہشتگردوں نے حملہ کیا اور یونیورسٹی کو غیرمعینہ مدت کے لئے بند کردیا گیا۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ کراچی میں ایک گھنٹے میں تین جگہوں پر(جس میں ایک پرائیویٹ سکول بھی شامل ہے) دستی بم پھینکے گئے۔ اساتذہ کو قلم کے ساتھ ساتھ بندوق رکھنے کے تجاویز پیش کئے جارہے ہیں، قبائلی بچے تو شاید یہ حق نہیں رکھتے کہ تعلیم حاصل کرسکے کیونکہ ان کو ابھی اپنے گھروں کے بارے میں معلوم ہی نہیں۔ خیموں اور کیمپوں میں پرورش پارہے ہیں، ان کا کوئی مسیحا ہے؟ ملک میں غربت روز بروز بڑھ رہی ہے، خواتین میں تعلیم کی شرح گررہی ہے، اندرون سندھ جائے تو وہاں تعلیم نامی چیز آپ کو نظر نہیں آئے گی، تھر میں بچے غذائی قلت اور والدین کی لاپرواہی کی وجہ سے مررہے ہیں۔ اسی اثنا ایک اور خبر آئی کہ جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے سابق امیر و سابق سینیٹر جناب پروفیسرابراہیم صاحب نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیرصاحب کے قاتل ممتازقادری کو فوراً رہا کیا جائے کیونکہ اگر اسکو پھانسی دی گئی تو ملک میں حالات انتہائی کشیدہ ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں ہم ویلنٹائن کے بارے میں اگر سوچیں گے، ان پر بڑے بڑے مباحثے کریں گے تو یہ کسی بھی طور پر ایک زندہ قوم کی نشانی نہیں۔

محبت بانٹنا گناہ نہیں نہ ہی ویلنٹائن کا مقصد لڑکے اور لڑکیوں کا باہر جاکر ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا اظہار کرنا ہے۔ محبت تو کسی سے بھی ہوسکتی ہے، کوئی پہاڑوں سے محبت کرتا ہے تو کوئی جانوروں سے، کوئی اپنے ماں باپ سے تو کوئی اپنے بہن بھائیوں سے، محبت کرنا اور بانٹنا کسی بھی مذہب میں گناہ کبیرہ تو کیا گناہ صغیرہ بھی نہیں تو پھر کیوں ہم اس بحث میں پڑ کر وقت ضائع کررہے ہیں۔ میرے عزیز ہم وطنوں پہلے "باکستان" کو پاکستان تو بناؤ پھر "الیوم الویلنتائن" کے بارے میں سوچو۔

11/15/2015

ایک ناقابل اشاعت تحریر

 کیوں اور صحافی کے اوقات

صحافت کے الف ب سیکھتے وقت اپنے ایک استاد محترم سے سیکھا تھا کہ صحافی ہمیشہ "کیوں" کے جواب کا متلاشی رہتا ہے اور جب ایک "کیوں" کا جواب مل جائے تو دوسرا "کیوں" سامنے آجاتا ہے ، اسی طرح یہ "کیوں" کا سفر ایک صحافی کی زندگی کا ایک اہم حصہ رہتا ہے  اور اسی جواب کے تلاش میں وہ اکثر بہت سے "ایکسکلوسیوز" بھی سامنے لے آتا ہے ۔ ہمارے ایک صحافی بھائی دوست نے بھی ہمارے انتہائی محترم جناب عمران خان سے اسی کیوں کا جواب جاننا چاہا تو صاحب برا مان گئے اور پوری صحافی برادری کو ان کے اوقات یاد دلانے کی بھرپور کوشش کی ۔ شاید ان کو اب یاد آیا ہی ہوگا کہ ہم کیا ہیں ؟ ہمارا کام کیا ہے؟ اور ہم کرکیا رہے ہیں ؟ اسی صحافی برادری نے پاکستان کے ایک ادنٰی سی جماعت کو پاکستان کی تیسری بڑی جماعت بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور اب بھی ادا کررہے ہیں ۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب ہم 126 دنوں پر مشتمل دھرنے کی کوریج کررہے تھے تو خان صاحب عین بلیٹن کے وقت اپنی تقریر شروع کردیتے  اور یہی صحافی برادری اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی تکمیل کی خاطر پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کو ایک طرف رکھ کر پوری کی پوری تقریر براہ راست دکھا تے تھے (شاید اس کے پیچھے کچھ اور عناصر بھی کارفرما ہو) ۔ پھر جب دھرنوں ہی کے دوران ایک خاتون صحافی پر بوتلوں اور گالیوں کی بوچھاڑ کی گئی تب بھی کچھ صحافی حضرات چُپ ہی رہے اور ایک نیوز چینل (شاید تن تنہا) یہ جنگ لڑتی رہی لیکن اس وقت سے ہم یہی سنتے چلے آرہے تھے کہ آج  اگر یہ نشانے پر ہے تو کل میں اور آپ ۔ ۔ ۔ اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران عارف یوسفزے نے عمران خان کے "مردم شناس" ہونے پر شبہ ظاہر کیا اور سوال کیا کہ خان صاحب شاید آپ اچھے مردم شناس نہیں ہے ۔  خان صاحب نے جواب دینے کی بجائے  اس سوال کو اپنی انا پر ایک کاری ضرب محسوس کرتے ہوئے اسی صحافی کو ان کے اوقات یاد دلائے  ۔  میں عارف یوسفزے کو جانتا نہیں نہ وہ مجھے جانتا ہے لیکن ایک ادنٰی صحافی ہونے کے ناطے مجھے دکھ ضرور پہنچا ہے اور اسی کی خاطر کچھ لکھنے کی جسارت کررہا ہوں ۔خان صاحب نے ہمارے بھائی عارف یوسفزے کے سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے  اسے ذاتی زندگی میں دخل اندازی قرار دی  ۔ لیکن خان صاحب شاید بھول گئے تھے کہ وہ بندہ جو اپنے آپ کو قوم کا رہنما گردانتا ہے اس کی کوئی چیز ذاتی نہیں رہتی   اور خان صاحب کی تو کوئی بھی چیز ذاتی نہیں  ۔  مجھے آج بھی یاد ہے کہ خان صاحب نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر (دوسرے سے مائیک چھین کر) شادی کرنے کا اعلان کیا تھا اور ان کے الفاظ کچھ یوں تھے "نیا پاکستان اس لئے بھی بنانا ہے تاکہ میں شادی کرلوں " (شادی کے لفظ پر خان صاحب نے بہت زور بھی دیا تھا ، معذرت اگر الفاظ ہو بہو وہ نہ ہو) ۔ پھر جب شادی کا اعلان کیا گیا تو وہ بھی میڈیا پر ۔ یہاں تک کہ نکاح کے دن بھی کچھ ٹی وی چینلز یہ کریڈٹ لینے کی کوشش کررہے تھے کہ خان صاحب اور ریحام خان صاحبہ کی شادی کے بعد پہلا انٹرویو وہ ریکارڈ کرسکے ۔سوشل میڈیا پر کچھ لوگ یہ دعوٰی بھی کررہے ہیں کہ خان صاحب نے کبھی کسی کی ذات پر حملہ نہیں کیا اور وہ ایک اچھے سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ پرائیویسی کی قدر کرنے والےانسان بھی ہے ۔ ہوں گے شاید لیکن اب تک ہم نے خان صاحب سے جو بھی سیکھا ہے وہ گالی گلوچ اورعوامی اجتماع میں دوسرے سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالنا ہی ہے ۔ 126 روز کے دھرنے کے دوران انہوں نے کسی کو نہیں بخشا ۔ مولانا فضل الرحمان کو مولانا ڈیزل کہا، پشتون ثقافت (چادر) اور محمود خان اچکزئی کا مذاق اڑایا ۔ ڈاکو ، چور ، لٹیرے تو شاید ان کی ڈکشنری میں گالیاں ہیں ہی نہیں ۔لیکن ان سب باتوں کے باوجود ہمارے صحافی برادری ان کی اب بھی قدر کرتی ہے ۔  ان کی ہر کہی ہوئی بات اخبار کی شہ سرخیاں اور  ٹی وی چینلز کی ہیڈلائینز ہوتی ہیں ۔ خان صاحب کو کوریج دینا ان کا اتنا ہی حق ہے جتنا دوسرے سیاسی رہنماؤں کا ہے کیونکہ نہ تو خان صاحب ہمارا لیڈر ہے اور نہ دوسرے سیاسی رہنما ۔ ہمارے لئے سب کے سب ایک خبر ہے اور بس ۔ ۔ ۔ ۔ ۔پرائیویسی کی بات اگر کی جائے تو کسی کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کرنا نہ صرف صحافی بلکہ ہر انسان کو زیب نہیں دیتا اور نہ کوئی انسان یہ خواہش رکھے گا کہ کسی کی ذاتی زندگی پر انگلیاں اٹھائے ۔ ہاں اگر کوئی ہمیں ہمارے اوقات یاد دلائے گا تو پھر تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ کچھ کڑوا سچ بھی سامنے لایا جائے ۔  طلاق ایک ذاتی معاملہ ہے لیکن یہی ذاتی معاملہ اگر سیاسی معاملہ بنایا جائے تو پھر وہ ذاتی نہیں بلکہ عوامی معاملہ بن جاتا ہے ۔  خان صاحب کو اگر اپنی ذاتی زندگی اتنی ہی پیاری تھی تو اپنی پارٹی کے ترجمان جناب نعیم الحق صاحب کے ذریعے اپنی طلاق کی خبر اپنے پسندیدہ چینل کو کیوں دی ؟ بھئی گھر کا معاملہ ہے گھر ہی میں رہنے دیتے کیوں سارا دن ٹی والوں کو ٹاک شوز کرنے کے لئے ایک موضوع دی ۔ ٹی وی والوں نے زلزلہ ذدگان کے مسائل کو چھوڑ کر پورے 24 گھنٹے طلاق کی خبریں بھی اسی لئے چلائیں کیونکہ خان صاحب شاید یہی چاہتے تھے ۔ اگر وہ نہیں چاہتے تھے تو چپکے سے تین بار یہ کہا ہوتا کہ طلاق، طلاق،طلاق اور معاملہ ختم ہوجاتا ۔جب آپ خود ہی ذاتی زندگی کو سیاسی زندگی بنانے کے درپے ہیں تو خان صاحب (بڑی معذرت کے ساتھ) صحافی کا تو کام ہی سوال کرنا اور کیوں کا جواب تلاش کرنا ہے ۔ ہم تو کریں گے آپ جواب نہیں دیں گے تو پھر کریں گے ، پھر نہیں دیں گے تو پھر کریں گے ۔ ۔ ۔  یہ سلسلہ رُکے گا نہیں ۔ ۔ ہاں ہمیں اوقات یاد دلانے کی بجائے اگر ذاتی زندگی پر توجہ دی ہوتی تو شاید آج معاملہ یہاں تک نہ پہنچ چکا ہوتا اور نہ ہم کیوں کا جواب آپ سے مانگتے ۔ ۔ ۔آخر میں شکریہ کہ آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور نہ صرف عارف یوسفزے بلکہ پوری صحافی برادری سے معافی مانگ ہی لی جو شاید خان صاحب کی زندگی کی پہلی معافی ہوگی ۔ 

6/28/2015

سیاست ،سیاست اور سیاست

ایک صاحب سے سنا تھا کہ سیاست کا لفظ اساس سے نکلا ہے جس کی لغوی معنی ہے بنیاد، یعنی سیاست کا مطلب ریاست کی بنیاد ۔ اسی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے محترم سیاسی رہنما بھی سیات کرتے ہیں اور بڑے بڑے جلسوں میں اصل سیاست کرتے ہوئے خدمت خلق کے جذبے سے سرشار نظر آتے ہیں ۔ یہی سیاستدان جلسوں میں تقریر کرتے ہوئے یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہمارا مقصد عوام کی خدمت ہے ۔ ہم سیات کو عبادت سمجھ کر کرتے ہیں اور ہر سیاستدان عوام کا اصل نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ جب بات حقیقت تک پہنچتی ہے تو انکے سیاست کا مطلب خدمت تو ہوتی ہے لیکن عوام کی نہیں بلکہ اپنے آپ اور اپنے خاندان کی ۔ وہ سیاستدان جو اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو حکمران جماعت پر بڑی تنقید کرتے ہیں کہ انکو شرم کرنی چاہئیے ، مستعفی ہونا چاہئیے اگر عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے ۔ جب خود اقتدار میں آتے ہیں تو پھر بھول جاتے ہیں کہ ہم سیاسی جلسوں میں کیا کچھ کہتے چلے آرہے تھے اور عملی طور پر کیا کچھ کررہے ہیں ۔ 
پاکستان میں بدقسمتی یا خوش قسمتی سے جمہوریت ہے ۔ جسکی تعریف ہر کسی نے کتابوں میں یہی پڑھی ہوگی کہ جمہوریت کا مطلب عوامی حکومت، عوام کے لئے حکومت اور عوام کے ذریعے حکومت ہے ۔ لیکن اس مملکت خداداد میں سب کچھ الٹ ہی ہورہا ہے ۔ سیاستدان ناکام ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو انتہائی کامیاب دکھانے کی بھرپور کوشش میں ہے۔ چاہے عوام کتنی بھی غربت کی چکی میں پھس رہی ہو لیکن ان کو اسمبلیوں میں تقریروں،بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھنے، میٹنگز اور میڈیا پر ٹاک شوز سے فرصت نہیں ملتی ۔ اپوزیشن ہو یا حکمران جماعت ، دونوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ سیاست کو کھیل سمجھ کر اپنی باری کامیابی سے کھیلنا اور انتخابات سے پہلے عوام کو کچھ دے کر پھر سے نئے انتخابات میں مطمئن کرنا ۔ 
پاکستان کو بنے 68 سال سے اوپر کا عرصہ ہوگیا ہے لیکن جو آج دیکھنے کو مل رہا ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ ہوا ہو ۔ شدید گرمی اور حبس سے کراچی میں سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں، پورا ملک لوڈشیڈنگ کے خلاف بہ احتجاج ہے ،صوبائی سطح پر منافرت میں اضافہ ہورہا ہے ، صوبائی حکمران اپنے حق کے لئے دھرنا دینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، وفاق میڈیا میں اور اسمبلی کے فلور پر لوگوں کو تسلیاں دے رہے ہیں کہ دو سال میں سب کچھ ٹھیک ہوجائیگا۔ حالانکہ یہی لوگ انتخابات سے پہلے دعویٰ کررہے تھے کہ ہم ایک سال کے اندر اندر ملک کو تاریکیوں سے نجات دلائیں گے ۔ شاید اب وہ اپنا وعدہ بھول چکے ہیں لیکن ہمیں یاد ہے ذرا ذرا ۔ 
وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے ناراض،صوبائی حکومت وفاق سے ناراض۔ اپوزیشن حکمران جماعت کے خلاف احتجاج پر اور عوام دونوں کے خلاف ۔ اب ہوگا کیا ؟ عوام کریں تو کیا کریں ؟ اپنے بنیادی حقوق کی جنگ کس کے خلاف اور کس کے زور پر لڑیں ؟ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ جناب پرویزخٹک صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ہمارا حق نہیں دیا جارہا ۔ ہم جتنی بجلی پیدا کررہے ہیں اس پر بھی ہمارا اختیار نہیں ۔ سندھ حکومت بجلی کے بحران اور کراچی سمیت صوبہ کے مختلف شہروں میں گرمی سے سینکڑوں ہلاکتوں کی ذمہ داری وفاق پر ڈالنے کی کوشش کررہی ہے ۔ بلوچستان والے کچھ کہہ نہیں سکتے کیونکہ وہ تو وفاقی حکومت کے اتحادی ہیں ۔ پنجاب کو کیا کہنا ہے ، وہ تو بڑا صوبہ ہے اور پاکستان کے دوسرے صوبوں کے لئے بڑے بھائی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ 
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی سیاست ہے کیونکہ یہاں پر سیاست کے نام پر جو کھیل گذشتہ 68برسوں سے کھیلا جارہا ہے اس نے صرف اس ملک کے اشرافیہ کو فائدہ پہنچایا ہے کسی غریب کو نہیں ۔ غریب وہی کا وہی غربت کی چکی میں پھس رہا ہے اور امیر امیر سے امیر تر بن رہا ہے ۔ عوام کو شاید اس بات کا احساس ہی نہیں کہ ہم کون ہیں اور کیا کچھ کرسکتے ہیں ۔ جو صورتحال ہم 2008ء سے پہلے دیکھتے چلے آرہے تھے وہ اب نہیں ۔ افغانستان پر حملہ ہوا تو پاکستان کے عوام اپنے سڑکوں پر نکل آئے او رامریکی جارحیت کے خلاف اپنے املاک کو نقصان پہنچانے کی بھر پور کوشش کی ۔ یہاں تک اس وقت کے آمر حکمران جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پتلے جلائے گئے لیکن اب اگر اپنے ہی حقوق ان کو نہیں مل رہے تو چُپ چاپ بیٹھے تماشا دیکھ رہے ہیں ۔ اس وقت بھی یہی سیاستدان تھے جو عوام کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہے تھے، خصوصاً مذہبی جماعتوں نے عوامی طاقت کا بھرپور استعمال کیا ۔ اب عوام کو خود سکھ و چین کی زندگی میسر نہیں لیکن کوئی کچھ نہیں کہتا ۔ شاید اب عوام کو اپنی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ، نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کچھ نہیں کرسکتے ۔ جمہوریت تو نام ہی جمہور کا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی جمہوریت کا عملی مظاہرہ کچھ اور ہی نظر آرہا ہے اور یہاں جمہور کا مطلب ایک خصوصی مجمع ہے جو نام،پارٹیاں، نعرے یا شکلیں بدل بدل کر اس ملک کے لوٹ رہے ہیں ۔ 
کراچی میں ہیٹ سٹروک ہویا خیبرپختونخوا کے علاقہ بنوں میں موجود بے گھر افراد کا مسئلہ ، پنجاب میں پولیس گردی ہو یا بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات۔ سیاستدان صرف سیاسی بیانات تک محدود ہیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ہر کوئی کوشش کررہا ہے کہ پوائنٹ سکورنگ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے پائے اورآنیوالے الیکشن کے لئے اپنی پوزیشن مضبوط کرسکے ۔ برباد کون ہورہا ہے؟ مستقبل کس کا تباہ ہورہا ہے؟ زندگی کس کی اجیرن بن چکی ہے؟ بجلی کس کو نہیں مل رہی؟ مہنگائی کا طوفان کس کے سر پر منڈلا رہا ہے؟ ذخیرہ اندوزی کے نقصانات کون برداشت کررہا ہے؟ بے روزگاری اور ناخواندگی کا شکار کون ہورہا ہے؟؟ اس کا جواب صرف ایک لفظ ہے اور وہ ہے غریب، جو ابھی تک اپنی طاقت سے بے خبر چپ چاپ بیٹھا تماشا دیکھ رہا ہے ۔ اسی طرح اگر غریب صرف تماشا دیکھتا رہا تو سب کچھ اسی کے اوپر آتا رہے گا اور سیاستدان اپنی سیاست کرتے رہیں گے کیونکہ حالات کیسے بھی ہو ان کو سیاست کرنا آتا ہے جس کے لئے ان کے پاس ملک ، اسمبلی،پارٹی اور پیسہ سب کچھ ہے ۔ ۔ غریب کو سوچنا ہوگا اور بیدار ہونا پڑے گا ورنہ حالات کبھی بھی خود نہیں بدلتے ان کو بدلنا پڑتا ہے ۔ 


6/20/2015

مجھے سیاست سے ہے یاس

سکول کے دنوں میں اکبرآلہ آبادی کی ایک نظم پڑھی تھی جس کا ایک شعر میرے ذہن میں ابھی بھی گردش کررہا ہے:
خدا حافظ مسلمانوں کا اکبر ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے تو انکی خوشحالی سے ہے یاس ۔ ۔ ۔ ۔ 
اسی شعرکے بارے میں کئی دنوں بلکہ کئی ہفتوں سے سوچ رہا ہوں کہ پاکستانی سیاست میں آج کل بہت کچھ اسطرح رونما ہورہا ہے جس سے انسانی اذہان پر مایوسی چھارہی ہے۔ اگر اکبر صاحب زندہ ہوتے تو شاید پاکستان کی سیاست کے بارے میں یہی شعر کچھ اسطرح لکھتے ۔
خدا حافظ ہو پاکستاں کا اکبر ۔ ۔ ۔ مجھے تو اسکی سیاست سے ہے یاس
(اکبرآلہ آبادی اور اردو ادب کے شعراء و ادیبوں سے معذرت کے ساتھ) ۔
 پھر یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ کیوں اکبر اتنی مایوسی میں یہ سب کچھ کہتے ۔ ذرا غور فرمائیں گاکہ سیاست کیا ہے اور کسی ملک میں سیاست کیوں کی جاتی ہے ۔ سیاست میں کون کامیاب اور کون ناکام ہوتا ہے ۔ سیاستدان کی پہلی ترجیح کیا ہونی چاہئیے اور سیاستدان کو اپنے نظریات کے ساتھ کتنا انصاف کرنا چاہئیے۔ 
بات نظرئیے کی آہی گئی تو سب سے پہلے اسی پہ بات کرتے ہیں ۔ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں دو قسم کی سیاسی جماعتیں موجود ہیں ۔ پہلی قسم دائیں بازوؤں کی جماعتیں اور دوسری بائیں بازوؤں کی جماعتیں کہلاتی ہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ دائیں بازوؤں والے مذہب کی بنیاد پر سیاست کرتی ہے جبکہ بائیں بازوؤں کی جماعتیں اکثر لبرل ، سیکولر اور مذہب وسیاست کو الگ رکھنے کے نظرئیے پر یقین رکتھے ہیں ۔اب یہ کام عام انسان کا ہے کہ اس پر غور وفکر کریں کہ ایک سیاستدان اپنے نظرئیے کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہے اور ایک سیاسی پارٹی کتنی اپنے نظرئیے پر سیاست کرتے کرتے قائم رہنے کی کوشش کرتی ہے ۔ فیصلہ آپ پر کہ آج پاکستان میں کتنی سیاسی پارٹیاں اپنے نظریات کی سیاست کرتے ہیں اور کتنا مخالف نظرئیے کو سپورٹ نہیں کرتے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں آج کل نظریات کی سیاست دفن ہوچکی ہے ۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ سیاست اگر نظرئیے پر شروع کی ہے تو اپنے نظرئیے کو کبھی بھی پس پشت نہیں ڈالنی چاہئیے ورنہ یہی نظریہ سیاست کو بھی پس پشت ڈال دیتی ہے اور پھر سیاست سیاست یا خدمت کی بجائے دروغ گوئی او خودغرضی بن جاتی ہے ۔ ہر سیاستدان پھر پاورپالیٹکس کے بارے میں سوچ وبچار میں مصروف عمل رہتا ہے ۔
اب بات کرتے ہیں سیاست اور جمہوریت کے ایک دوسرے اہم ستون کی ۔ پاکستان میں جمہوریت کی سیاست کے لئے ایک قوت کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ کسی سیاست جماعت کے نظرئیے کو گھر گھر تک پہنچانے کاکام بغیر کسی لالچ یا ذاتی فائدے کے سرانجام دیتی ہے ۔ اس قوت کو کارکن کہاجاتا ہے اور یہی کارکن اصل میں کسی سیاسی،مذہبی،نظریاتی یا انقلابی تحریک کا وہ ستون ہے جس کے بغیر کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ کسی بھی پارٹی میں رہنماایک ہی ہوتا ہے جو صرف فیصلے کرتا ہے لیکن ان فیصلوں پر عمل کرنا اور کروانا کارکن کا کام ہوتا ہے ۔ پاکستان میں بھی ان کارکنان کی کبھی بڑی مقدار پائی جاتی تھی ۔ (یہاں کارکنان سے مراد نظریاتی و مخلص کارکنان ہیں) لیکن اب وہ کارکنان نہ ہونے کے برابر ہیں جن کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو سیاست کو سیاست سے زیادہ تجارت یا مفادات کی جنگ سمجھتے ہیں ۔ ہم نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ سیاسی جماعت کے قائدین اپنے کارکنان کی بڑی عزت کرتے تھے یہاں تک کہ ان کو اپنے کارکنان کے نام بھی یاد رہتے تھے ۔ اپنے کارکن کو وہ دور سے پہچانتے اور باقاعدہ نام لے کر پکارتے تھے ۔ اگر کسی عام کارکن پر کوئی بھی تکلیف آتی تو سیاسی جماعت کا مرکزی رہنما اس کی داد رسی اور خیریت جاننے کے لئے بذات خود تشریف لے جایا کرتے تھے ۔
لیکن یہاں پر بھی بدقسمتی سے کارکن کی وہ عزت نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی ۔ آج کا سیاسی کارکن اپنے لیڈر سے ملنے کے لئے کئی کئی دنوں انتظار کرتاہے لیکن پھر بھی اکثر ناکام لوٹ جاتا ہے اور اپنے لیڈر کی دیدار نصیب نہیں ہوتی ۔ اور تو اور کوئی سیاسی پارٹی اپنے ابتدائی دنوں میں جس طرح اپنے کارکن کو اہمیت دیتی ہے، اقتدار میں آکر یا مقبول ہوکر اسی کارکن کو بھول جاتی ہے جو کبھی اسکا اثاثہ ہوتا تھا اور جس نے انتھک محنت اور بیش بہا قربانیوں سے اسی جماعت کو مضبوط و مقبول کیا ہو ۔ یہاں تک کہ نئے لوگوں کے آنے سے پرانے چہرے بھول جاتے ہیں ۔ کوئی اگر سیکولر ہے تو مذہبی جماعت میں جاکر صوبائی صدر بن جاتا ہے ۔ کوئی اگر مذہبی جماعت سے تعلق رکھتا ہے تو سیکولر جماعت میں جاکر مرکزی و صوبائی عہدوں پر براجمان ہو کر اپنی ماضی کو مکمل طور پر بھول جاتا ہے ۔ پھر کارکن،نظریہ،سوچ، فلسفہ یا فکر بالکل بدل جاتے ہیں ۔ ہماری خوش قسمتی یا بدقسمتی لیکن یہ بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ ایک مذہبی سیاسی پارٹی کا عہدیدار لبرل سیاسی پارٹی میں جاکر صوبائی صدر بن جاتا ہے ۔ اور تو اور ایک سوشلسٹ پارٹی کا مرکزی رہنما اور سابقہ وفاقی وزیر ایک دائیں بازو کی سیاسی پارٹی میں جاکر وائس چئیرمین بن جاتا ہے ۔ پھر کہاں گئی سیاست اور کہاں گیا نظریہ ؟
سیاسی پارٹیوں کی وفاداریاں تبدیل ہونا پاکستان میں ایک کلچر بن چکا ہے لیکن عوام اب بھی وہی کے وہی بغیر دماغ کے اپنے سیاستدانوں کی راہ تھک رہے ہیں ۔ نہ جانے کب عام جنتا(عوام) کو ہوش آئے گا کہ ایک سیاستدان کی اصلیت کو پہچاننے میں اندھی تقلید سے کام لینے کی بجائے اپنے دماغ کا استعمال کرنا شروع کریں ۔ بات یہاں سیاست کی نہیں کیونکہ پاکستان میں سیاست کرنا عبادت یا خدمت نہیں بلکہ اپنے مفادات کو وسعت دینا اور تحفظ کرنا ہے ۔ 
پاکستانی سیاست کا ایک اور المیہ یہ بھی ہے کہ جب اپنے مفادات کی بات آتی ہے تو پھر نہ دائیں بازو کی سیاست ذہن میں رہتی ہے اور نہ بائیں بازو کی ۔ نہ فلسفہ یاد رکھا جاتا ہے نہ نظریے کو ، نہ تو اپنے منشور کو ذہن میں رکھا جاتا ہے اور نہ ماضی کی تلخیوں کو ۔ بلکہ ایک معزز سیاستدان تو اس حد تک کہتے ہیں کہ سیاست مصلحت اور مکا کا ہی نام ہے ۔ اگر اسی طرح ہے تو پھر سادہ لوح عوام کو بیدار ہونا چاہئیے کہ پاکستانی سیاستدان عوامی نمائندے نہیں بلکہ اپنے آپ اور اپنے مفادات کے نمائندے ہیں ۔

یہاں ایک مثال دیتے ہیں ، پرویزمشرف دور میں شوکت عزیز پاکستان آئیاور انہیں وزیرخزانہ بنایا گیا۔ ان کی شہریت مشکوک تھی کیونکہ مبینہ طور پر ان کے پاس امریکی پاسپورٹ تھا اگر کوئی امریکی قومیت رکھے تو اسے اپنی پرانی قومیت چھوڑنا پڑتی ہے۔ کوئی امریکی دوہری شہریت نہیں رکھ سکتا۔ اس لئے اگر ان کے پاس امریکی شہریت ہے تو وہ پاکستان کی قانونی طور پر شہری اور وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے ۔ اسی بات پر چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کیس شروع کرنے لگے تھے مگر ان کو ایک ریفرنس کے ذریعے غیر فعال کردیا گیا۔ پرویزمشرف نے شوکت عزیز کو قومی مفادات کی خاطر برآمد نہیں کیا تھا بلکہ سابق ڈکٹیٹر کے اپنے مفادات تھے یہی معاملہ جمہوری حکمرانوں کا بھی ہے جو کہ ذاتی مفادات کے اسیر ہیں ۔ 


6/06/2015

کالا باغ سے اقتصادی راہداری تک ۔ ۔ ۔ جواب کالم

پاکستان کی بدقسمتی یا خوش قسمتی کہ یہاں پر ایک قوم نہیں بلکہ کئی قومیں آباد ہیں اور ہر قوم اپنے آپ کو دوسرے قوم سے بہتر یا بالا سمجھتی ہے ۔ ہر قوم کی اپنی تاریخ، روایات،ثقافت،رسم و رواج اور عادات و اطوار ہیں جن میں وہ سب ایک دوسرے سے منفرد بھی ہیں۔ ہر قوم نے ایسے سپوت پیدا کئے ہیں جن پر پوری قوم فخر کرتی ہے ۔ ہر قوم اپنی مفادات کا خیال رکھنا بھی جانتی ہے اور انہی مفادات کی تحفظ کرنا اس قوم کا ہر فرد اپنا اولین فرض سمجھتا ہے ۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں کچھ ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو پاکستان کو ایک ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس ملک کو اگر ملک بنانا ہے اور ملک بنا کر چلانا ہے تو ہر کمیونٹی ،زبان اور قوم کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ پشتون،بلوچ،پنجابی،سرائیکی،سندھی،مہاجر،اسماعیلی،کوہستانی،کشمیری،گجر اور اسی طرح اس خطے میں رہنے والی ہر قوم ایک جیسے اہمیت کی حامل ہے۔ 

اب اگر یہ سب کچھ نہ ہو تو پھر پاکستان کی ترقی کا خواب شاید ادھورا رہ جائے گا کیونکہ ایک صوبے یا ایک خطے کے لوگوں کو اہمیت دینا اور دوسروں کو نظرانداز کرنے سے لوگوں کا احساس محرومی اور احساس کمتری کی کیفیت میں مبتلا ہونا ایک فطری امر ہے ۔ ایسے حالات میں ملک کے چیف ایگزیکٹیو کی اولین ذمہ داری ایک مخصوس طبقے کی حمایت کی بجائے پورے ملک کے رہنے والوں کی احساس محرومی کو ختم کرنا بنتا ہے ۔ 
اتنی بڑی تمہید لکھنے کا مقصد ہمارے ایک محترم اور سینئیر صحافی عبدالقادر حسن کے لکھے گئے کچھ الفاظ کے بارے میں بحیثیت پختون اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے ۔31مئی 2015ء کو لکھے گئے کالم بعنوان"میاں صاحب ! مبارکاں" میں ہمارے محترم صاحب نے کہا ہے کہ "پاکستان بنے مدتوں گزرگئے لیکن کچھ لوگوں کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوابلکہ ذرا ذرا سی بات پربھڑک اٹھتا ہے " ۔ آگے صاحب لکھتے ہیں کہ "کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ بعد از وفات یہ غصہ بھی بزرگوں کی طرح کسی افغانستان کی سرزمین پر نکال لیا جاتا"۔ اسی کالم میں آگے محترم صاحب نے ایک قوم کو کالاباغیوں کا لقب دیا ہے او ر لکھا ہے کہ" ہمارے وزیراعظم نے معجزہ دکھا دیا کہ اس منصوبے کو کالاباغیوں سے بچا لیا اور ایک متفقہ زندگی دے دی ۔"
ایک پشتون باپ کا بیٹا ہوتے ہوئے میں یہ ہرگز گوارا نہیں کروں گا کہ کوئی میرے خاندان یا میرے آباو اجداد کے بارے میں ایسی ویسی زبان کا استعمال کرے ۔اپنی برادری کو سچا،ایماندار اور محب وطن ثابت کرنے کے لئے کوئی کتنا بھی کوشش کریں لیکن آج کے دور میں ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ انسان کا عمل اور اسکی پوری زندگی لوگوں کے سامنے ہی رہتی ہے خصوصاً وہ لوگ جو اپنے آپ کواپنے پیشے کے سلیبریٹی کہلاتے ہیں ۔ اسی میں ایک صحافی کا اپنے قوم کی اچھائی اور دوسرے کی برائی بیان کرنا کم از کم میرے سمجھ سے بالاتر ہے ۔ پشتون کو طعنہ دینا کہ انہوں نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا ایک غیرمنطقی دعویٰ ہے کیونکہ ابھی تک پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے اکثریتی صوبہ نے تمام صوبوں پر اپنی برتری قائم رکھنے کی پوری کوشش کی ہے۔ یہ تو بھلا ہو پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کا جنہوں نے این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کی شکل میں چھوٹے صوبوں کو اپنے حقوق کے لئے مدتوں سے جاری کوششوں کا کچھ صلہ دیا۔ 
پشتونوں پر یہ الزام بالواسطہ اسی کالم میں لگایا گیا ہے کہ وہ ابھی تک پاکستان کو نہیں مانتے تو اس کے جواب میں عرض ہے کہ پشتونوں کے رہنما فخرافغان باچا خان نے پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد اس وقت کے صوبہ سرحد میں استصواب رائے کے لئے پختونستان کے نام سے پشتونوں کے لئے پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ تیسری آپشن دینے کا مطالبہ کیا تھا جو کہ نہ مانا گیا ۔(بحوا لہ آزادی ہند ۔ مولانا ابوالکلام آزاد)پاکستان بن گیا تو سب نے مان لیا۔ اسلامی جماعتوں نے بھی پاکستان بننے کی مخالفت کی لیکن جب پاکستان بن گیا تو سب نے کھلے دل سے تسلیم کرلیا۔ پاکستان بننے کے بعد خود فخرافغان باچا خان پاکستان کے قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے اور انکے بیٹے خان عبدالولی خان سمیت تمام خاندان ابھی تک پاکستان کے وفاداری کا حلف اٹھائے ہوئے ہیں۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پشتون صرف یہ ایک خاندان نہیں بلکہ آبادی کے لحاظ سے دوسری بڑی قوم کی حیثیت سے اس ملک میں رہ رہے ہیں ۔ اب اگر اس قوم کی مفادات کا خیال نہیں رکھا جارہا اور وہ اپنے حقوق کے لئے میدان میں نکل آئے تو ان کو کچھ قوتیں غدار یا ہمسایہ ملک کے ایجنٹ قرار دے رہے ہیں ۔
کالاباغ ڈیم کے حوالے سے اس کالم میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے خلاف تو کوئی دلیل نہیں لیکن اس کے حق میں ماہرین کی دلیلیں موجود ہیں جو بلاشبہ ماہرین میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر اسی طرح ہے تو ہم بھی اسی ملک میں رہ رہے ہیں اور توانائی کی کمی کی وجہ سے جتنا دوسرے صوبوں کے رہنے والے متاثرہیں اس سے زیادہ پختونخوا کے لوگ ہورہے ہیں۔ کوئی کیوں اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کرزندگی گزارنا پسند کرے گا۔اگر کوئی پشتونوں کو کالاباغ ڈیم پر مطمئن کرسکتا ہے تو یا بسم اللہ ۔ 
آخر میں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ اس صوبے میں صرف پشتون نہیں رہ رہے بلکہ کئی قومیں آباد ہیں اور سب ہنسی خوشی اتفاق کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ اور ہاں ! پختونخوا کے سیاسی رہنماؤں کا تعلق صرف ایک پارٹی سے نہیں جن کے رہنما افغانستان میں دفن ہیں یا جنہوں نے کالاباغ ڈیم کی مخالفت کی تھی۔ اب تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے جنہوں نے وزیراعلیٰ پرویزخٹک کی سربراہی میں اپنے حقوق کی جنگ لڑی اور وفاقی حکومت نے ان کے مطالبات بھی مان لئے ۔
محترم کے غیرسیاسی باتوں سے یہ تاثر ملا ہے کہ پختونخوا کی ہر جماعت کا مقصد صر ف ایک ہی ہے اور وہ ہے پاکستان کی ترقی کی مخالفت۔ خدارا پاکستان کو قومیت کی بنیاد پر تقسیم کے پروپیگنڈے کو اور ہوا نہ دیں ورنہ 1971ء ہم ابھی تک نہیں بھولے ہیں ۔ 
آخر میں پنجاب کے لئے لکھنے والے تمام صحافیوں سے ایک گزارش ہے کہ کبھی جنوبی پنجاب کے لوگوں کی آواز بھی اٹھائے کیونکہ وہ بھی پاکستانی ہے۔ بہت بہت شکریہ

یہ کالم روزنامہ اخبارخیبرمیں 04 جون 2015 ء کو شائع ہوا تھا

5/27/2015

بول میڈیا بول

پاکستانی میڈیاجب سے نجی کمپنیوں اور اداروں میں تبدیل ہوگئی ہے تب سے ایک دوسرے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اورایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے سے نہیں کتراتے ۔بولنے پر کسی کو پابندی نہیں لیکن ہر پیشے کے تقدس کا خیال رکھنا اس میدان میں کام کرنیوالوں کی اولین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے اور یہی ذمہ داری صحافتی اداروں اور اس میں کام کرنے والوں سے تقاضا کرتی ہے کہ جو بھی خبر دینی ہو اس کی تصدیق ہونی چاہئیے۔ تصدیق ہوجائے تو خبر کو خبر بنا کر لوگوں تک پہنچایا جائے لیکن اس میں بھی اپنے قارئین ،ناظرین اور سامعین کی دلچسپی کو مدنظر رکھنا چاہئیے۔
گذشتہ کئی دنوں سے پاکستانی میڈیا ایسا دکھائی دے رہا ہے جیسا کہ صحافی حضرات اور صحافتی ادارے (خصوصاًالیکٹرانک میڈیا) سب خبریں بھول چکے ہیں اور پاکستان میں کوئی دوسرا مسئلہ نہیں سوائے ایگزیکٹ کمپنی کے مبینہ جعلی ڈگریوں کے سکینڈل کا ۔ خبرنامہ، ٹکرز، بریکنگ نیوز، تازہ خبر غرض جو بھی خبر کی قسم ہے صرف اور صرف انہی خبروں پر مشتمل ہے جس سے ظاہر ہورہا ہے کہ پاکستان میں کوئی دوسرا مسئلہ نہیں سوائے اس جعلی ڈگری سکینڈل کے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان میں مکمل امن قائم ہوچکا ہے، شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی میں جاری دہشتگردوں کے خلاف جنگ بھی شاید ہم جیت چکے ہیں اور انہی علاقوں سے بے گھر ہوئے افراد بھی شاید بڑی خوشی کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس ہوچکے ہیں اور خوش وخرم زندگی گزاررہے ہیں اسی لئے تو پاکستانی میڈیا میں ان کا کوئی ذکر نہیں ۔ پاکستانی شاید سوچ رہے ہوں گے کہ پاکستان ، جس کو کچھ لوگ مسائلستان کے نام سے بھی پکارتے ہیں،میں دوسرا کوئی بڑا مسئلہ نہیں، شرح خواندگی بھی سو فیصد ہوگئی ہے شاید ۔ 
کراچی والے پانی کے قطرے قطرے کو ترس رہے ہیں، پختونخوا کے عوام لوڈشیڈنگ، گیس کی قلت اور سکولوں کی کمی کے ساتھ ساتھ وہاں پر دینے والے نامکمل سہولیات سے تنگ ہیں۔ بلوچستان میں امن و امان کے مسائل کے خاتمے کے لئے آئے روز سرچ آپریشن کرنا پڑتا ہے ، پنجاب سے خبریں شاید آنہیں رہی کیونکہ وہاں کے حکمران وفاق میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ پختون شکایت کررہے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری میں انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے لیکن شایدپاکستانی میڈیا کو پتہ نہیں یا معلوم نہیں کرنا چاہتے کہ اصل معاملہ کیا ہے اور پختون بحیثیت قوم کونسی محرومیوں کا احساس اپنے دلوں میں بسائے زندگی گزاررہے ہیں۔ 
اب اس ماحول میں صرف ایک موضوع کو لے کر اپنی دل کی بڑاس نکالنے والے صحافی کل کس منہ سے کہیں گے کہ بھئی یہاں پر میرٹ کا استحصال ہورہا ہے، یہاں پر ناانصافی ہورہی ہے،یہاں پر انسان کو بنیادی سہولیات اور ضروریات زندگی میسر نہیں ۔ کیسے یہ لوگ کہیں گے کہ ہم انصاف چاہتے ہیں، ہم انصاف کی بات کرتے ہیں، ہم میرٹ کا بول بالا چاہتے ہیں، ہم پاکستان کو پر امن دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ ہم پاکستانی قوم کی خوشحالی چاہتے ہیں ۔ بھئی آپ خود صرف ایک چیز کے پیچھے پڑ کر سب کچھ بھول چکے ہیں اور کچھ دنوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ بس یہی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ 
کرپشن، دھوکہ اور ملک کی بدنامی اگر ہوئی ہے تو اس کی تحقیقات کرنا اور تحقیقات کے بعد سزا دینا حکومت اور عدلیہ کا کام ہے ہم صحافیوں کا نہیں۔ ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ قصوروار کون ہیں اور بے قصور کون ؟ پیشہ وارانہ تقاضوں اور ضرورتوں کو سامنے رکھ کر اگر ہم چیزوں کو جانچنے کی کوشش نہیں کریں گے تو اسی طرح پاکستان اور پاکستانی قوم کا سر شرم سے جھکا رہے گا۔ کہیں جعلی ڈگری سکینڈل تو کہیں جمہوریت پر وار سے، کہیں میمو گیٹ سکینڈل تو کہیں سیاسی رہنماؤں پر حملوں سے۔ کہیں ہمارے بچوں کو مارا جائیگا تو کہیں ہمارے صحافیوں کو۔ آج اگر اس مبینہ ڈگری سکینڈل کے پیچھے سارے میڈیا والے یک زبان ہوکر آواز اٹھارہے ہیں تو کیوں نہ ان لوگوں کے خلاف بھی آواز اٹھائے جو اس ملک کو تاریکی کے دور میں دھکیلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کیوں نہ ہم ان لوگوں کے خلاف بولے جو پاکستانیوں کو انکے بنیادی حقوق دینے کے نام پر سیاست کررہے ہیں۔ کیوں نہ ہم اس پس پردہ قوت کے خلاف بولے جو اس ملک کو امن کا گہوارہ بنانے سے روک رہا ہے ۔ کیوں نہ ہم اس قوت کے خلاف بولے جس نے پاکستان کے چاروں صوبوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی سازش بنارکھی ہے۔ کیوں نہ ہم ان لوگوں کے خلاف بولے جو پاکستان کے ہر ادارے پر قابض ہوکر غریبوں کا مال لوٹ رہے ہیں۔ میرے پیارے صحافی بھائیوں! کیوں نہ ہم اس ملک میں تعلیم عام کرنے کے لئے یک زباں ہو کر آواز اٹھائے پھر ہر کوئی بولے گا کہ "بول میڈیا بول" ۔ 

یہ کالم روزنامہ اخبار خیبر میں 26مئی 2015 کو شائع ہوا ہے

میں اور میرا سگریٹ ۔ ۔ ۔ ۔ تصوراتی مکالمہ ۔ ۔ ۔ 15مئی 2015 ء ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام آباد

میں جب بھی سگریٹ کو ہاتھ لگاتا ہوں تو پلک جپکتے یاد آجاتا ہے کہ میں کیوں ایسا کررہا ہوں؟ صرف دھوا ں چھوڑنے کی خاطر اسکی مضر اثرات سے باخبررہتے ہوئے بھی اپنے آپ کو بے خبررکھنے کی کوشش کیوں کرتا ہوں۔مجھے میری زندگی کا حسین دور یعنی جوانی کی فکرلاحق ہونی شروع ہوجاتی ہے ۔کیونکہ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ سگریٹ جوانی کو تباہ کردیتی ہے لیکن میں نہیں مانتا کیونکہ جوانی دیوانی ہوتی ہے اور کیا پتہ کل ہو نہ ہو ، تو جو کرنا ہے آج ہی کرلو کل کا کیا بھروسہ ۔ اسی خاطر ایک اور کش لے کر سوچتا ہوں کہ اس کا فائدہ کیا ہے ؟ کیا میں اپنے پیسے فضول خرچ کررہا ہوں ؟ 100روپے کی ایک ڈبی زیادہ سے زیادہ ایک یا ڈیڑھ دن ہی چلتی ہے تو میں ان پیسوں سے کیوں نہ کوئی پھل خریدلوں تاکہ صحت کو نقصان کی بجائے فائدہ دے سکوں ۔ لیکن پھر میں سوچتا ہوں کہ پھل سے مجھے لگاؤ نہیں اور سگریٹ سے ہے تو کیوں نہ اپنا شوق پورا کروں ۔ 
ایک دن میں نے سگریٹ سے پوچھا کہ تم میں کیا خصوصیت ہے کہ پاکستان کا ہر ستائیسواں شخص تمھیں اپنے ساتھ رکھنے پر مجبور ہے ۔ سگریٹ پہلے میرے منہ تک آیا ، ایک زبردست کش دے کر کہا کہ بھئی میں تو خود کسی کے جیب میں نہیں گھستا نہ مجھ میں یہ صلاحیت ہے کہ کسی کے ساتھ زبردستی کروں لیکن تم مجھے یہ بتاؤ کہ تمہارا سب سے عزیز، پیارا اور مخلص دوست کون ہے جو ہر وقت تمہارے ساتھ رہتا ہے ؟ میں سوچ میں پڑگیا اور سوچ سوچ کے بھول ہی گیا کہ سگریٹ میرے جواب کا انتظارکررہا ہے ۔ اتنے میں سگریٹ ایک بار پھر میرے منہ تک آیا اور مجھے ایک اور کش دے کر خود ہی جواب دینا شروع کیا اور کہا کہ بھئی مجھے پتہ ہے تمہارا کوئی ایسا دوست نہیں جو ہر وقت تمہارے ساتھ رہے ، تمہیں مصروف رکھے ، تمہارے غم بانٹیں، تمھاری خوشیوں میں شریک ہو ، تمہارے ساتھ دن رات ایک ہی جگہ پر رہ کر تمہارے ساتھ باتیں کرے ، تمہاری تنہائی کو ختم کرنے کی کوشش کرے وہ بھی بغیر کسی لالچ کے ۔ آج کل تو دوست بھی بغیر کسی لالچ کے کسی کے ساتھ دوستی نہیں کرتا ۔ میں تو بے جان ہوں اور پھر بھی دن رات تمہارے ساتھ رہتا ہوں۔تم سوتے ہو تو تمہیں شب بخیر کہتا ہوں، تم اٹھتے ہو تو تمہارے لئے تم سے پہلے جاگ کر تمہیں صبح بخیر کہتا ہوں۔ جب زیادہ خفا ہوتے ہو تو تمہیں مصروف رکھتا ہوں۔ ہاں کچھ لوگ مجھے مضرصحت بھی کہتے ہیں لیکن میں اس دوست سے بہتر ہوں جو دوست ہوتے ہوئے تمہیں نقصان پہنچاتا ہے ۔ میں تو صاف کہتا ہوں کہ مجھ میں برائی زیادہ اور اچھائی کم ہے اگر مجھ سے دوستی کرنی ہے تو کرلو، نہیں کرنی تو نہ کر۔ میں کسی کو دوستی پر مجبور نہیں کرتا ۔مگر جب دوست بنوں تو ساری زندگی دوست کا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑتا۔ البتہ اگر دوست مجھے چھوڑنا چاہے تو میں ناراض بھی نہیں ہوتا بلکہ اس کے واپس آنے کا انتظارکرتا ہوں۔ اگر وہ واپس آئے تو نہایت گرمجوشی کے ساتھ اسے خوش آمدید کہتا ہوں اور اگر پوری زندگی میں نہ آئے تو پھر بھی میں انتظار میں رہتا ہوں، میرا انتظار کبھی ختم نہیں ہوتا ۔میں غور سے اسے سنتا رہا اور آرام سے کش بھی ساتھ لیتا رہا ۔ پھر سوچنے لگا کہ یار اس بے چارے کا کیا قصور ہے، یہ تو نہایت بے ضرر چیز ہے ۔ کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا، بے وفائی نہیں کرتا، نہ کسی کو گالی دیتا ہے نہ کسی کو مارتا ہے ۔ نہ اس میں لالچ کا عنصر ہے اور نہ اس میں خودغرضی ۔ کم از کم ہم انسانوں سے تو بہتر ہے جو بغیر کسی لالچ کے کسی کے ساتھ ہاتھ بھی نہیں ملاتے ۔ جہاں تک ہوسکے اپنے عزیز واقارب اور دوست و احباب کو نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اپنی غرض و لالچ کی خاطر دوست یہاں تک کہ بھائی کی جان بھی لینے سے نہیں کتراتے۔ پھر میں سگریٹ سے مخاطب ہوا اور اس سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی لیکن جب اسے دیکھا تو کش لے لے کر میں نے اس کی جان لے لی تھی اور وہ ہنسی خوشی ایش ٹرے میں پڑا میری طرف دیکھ کرمسکرا رہا تھااوریہ کہہ کر مجھے مطمئن کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ اگر ایک چلاگیا تو اپنے قریب دیکھو میرے اور بھائی بہن بھی تمہارا ساتھ دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں ان میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں۔ میں دوسروں کی خاطر جان دے سکتا ہوں لیکن کسی کی تکلیف اور تنہائی برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی کہہ کر اس نے مجھے خداحافظ کہا اور میں ساری رات یہی سوچتا رہا کہ دنیا کے دوستوں سے یہ سگریٹ ہزار گنا بہتر ہے جو ہر وقت ، ہر پل اور ہر موقع پر اپنے دوست کا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑتا ۔ 

 

Copyright @ 2013 عمرانيات.